Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!


دنیا ایک دھوکہ كا سامان

دنیا ایک دھوکہ
مفتی محمد ارباب شمسی قسمی
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور اسے عقل سلیم عطا کیا اور اسے دنیا کمانے کا سلیقہ اور ہنر عطا کیا اب انسان کے اوپر منحصر ہے کہ وہ دنیا کو کتنا حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ دنیا جس کی حقیقت ایک مچھر کے پر سے بھی زیادہ نہیں ہے اس کے حصول میں انسان اپنے آپ کو کتنا لگاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے اپنے کو کتنا فارغ کرتا ہے۔
یہ دنیا جس کی اللہ کے نزدیک کوئی قدرومنزلت نہیں ایک دھوکہ کا سامان ہے اب انسان اس دھوکے کے سامان کو حاصل کرنے کے لئے اپنے کو کتنا لگاتا ہے۔ اس کا پتہ اس کے اعمال سے چلے گا۔ ارشاد خداوندی ہے:
وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا اِلَّامَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ (آل عمران:185)
دنیاوی زندگی نہیں ہے مگر دھوکے کا سامان۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے دنیا کو دھوکہ کا سامان قرار دیا ہے آج تک کوئی بھی شخص دنیا کو حاصل کرکے کامیابی اور کامرانی کی منزل تک نہیں پہونچ سکا کیونکہ اللہ نے اسے دھوکہ کاسامان قرار دیا ہے۔
اس لئے ہمیں دنیا بقدر ضرورت حاصل کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ دنیا ایک سمندر کے مثل ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ ہم دنیا کے حصول میں اس کے آخری سرا تک نہیں پہونچ سکتے۔
اس دنیا کے حصول کے لئے جو جتنا اس کے اندر گھستا ہے وہ اس کے اندر گھستا چلا جاتا ہے وہ اس کے آخری سرے تک نہیں پہونچ پاتا ہے۔ حدیث کے اندر آتا ہے کہ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بھرسکتی اگر اس کے پاس مال کا ایک وادی ہوتو وہ دوسرے کو حاصل کرنا چاہتا ہے جب دوسری وادی کو حاصل کرلیتا ہے تو تیسرے کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کو حاصل کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور قبر کے اندر سوجاتا ہے لیکن دنیا کے آخری حد تک نہیں پہونچ پاتا ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ لِاِبْنِ وَادِیًا اٰدَمَ مِنْ ذَہَبٍ لَاَحَبَّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ ثَانِیًا وَیَمْلَاُ فَاہُ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ (ترمذی شریف:2/59)
حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی ہوں تو وہ چاہے گاکہ اس کے لئے دوسری وادی ہو۔ اور اس کے منہ کو نہیں بھرتا ہے مگر مٹی اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر متوجہ ہوتے ہیں جو توبہ کرے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے بندے کو ہرکام اعتدال سے کرنے کا حکم ہے چونکہ دنیا کمانا انسان کے ضروریات میں داخل ہے ورنہ انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا دنیا کو انبیاء صحابہ تابعین سلف وصالحین نے بھی حاصل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے اس کی حقیقت کو جانتے ہوئے اس بقدر ضرورت حاصل کیا اس دنیا کے حصول کو اپنے اوپر غالب آنے نہیں دیا کیونکہ ہر تکلیف ہرپریشانی کی جڑ دنیا کا حصول اور اس کی محبت ہے۔ آج کے دور میں انسان دنیا کے حصول میں اللہ اور اس کے رسول کو بھلا دیتا ہے حتیٰ کہ خود کو بھی بھلا دیتا ہے اس کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا ہے کہ وہ وقت پر کھانا کھالے اور وقت پر آرام کرلے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:
حُبُّ الدُّنْیَا رَاسُ کُلَّ خَطِیْءَۃٍ۔ (بیہقی شریف)
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے دوایسے لالچی کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتا ہے۔ دونوں کا حرص اور لا لچ حصول کے سا تھ سا تھ بڑھتا چلا جا تا ہے۔ لیکن ان میں سے ایک لا لچی کو صحیح اور بہتر قرار دیا ہے اور دو سرے لا لچی کو بُرا اور گھٹیا قرا ر دیا ہے۔ ایک علم کا حریص ہو تا ہے جب وہ علم حا صل کر تا ہے تو اس کاحرص اور لا لچ علم کو حا صل کر نے کے لیے بڑھتا چلا جا تا ہے وہ کہیں پہو نچ کر یہ نہیں کہتا ہے میرا حصول علم مکمل ہو گیا موت کے آخری لمحے تک وہ علم حا صل کر تا رہتا ہے ایسے حر یص کی حضور ﷺ نے تعر یف کی ہے اور اس کے اس عمل کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔
دوسرا حریص دولت کا ہو تا ہے کہ وہ دو لت کو حا صل کر تے کر تے تھکتا نہیں اور اس کے حصول سے آسودہ نہیں ہوتا ہے وہ جوں جوں دولت کو حا صل کر تا ہے توں توں اس کا حرص دولت کما نے کیلئے بڑھتا چلاجاتاہے۔حضور ﷺ نے اس شخص کی برا ئی بیا ن کی ہے اور اس کے اس عمل کو مذموم قرار دیا ہے۔ ارشا د ونبویﷺ ہے:
مَنْہُوْ مَانِ لَایَشْبَعَانِ مَنْہُومٌ فِی الْعِلْمِ وَمَنْہُوْمٌ فِی الدُّنْیَا۔ (طبرانی)
دو حریص ایسے ہیں جو کبھی آسودہ نہیں ہوتے پہلا علم کا حریص اور دوسرا دولت کا حریص۔
لہٰذا میر ی تمام قا رئین سے درخو است ہے کہ وہ دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کر یں اور اس دنیا کے حصو ل میں اسکی بلند ی پر جا نے کی کو شش نہ کر یں کیو نکہ انسان کی زند گی چند روزہ ہے ہم اسے اسی کے اعتبا ر سے حا صل کریں۔ اور اللہ اور اس

 



Leave a Comment