Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
لے پالک بچے کا حکم

سوال:۔لے پالک بچے کا کیا حکم ہے؟
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق:۔أُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاءِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا آبَاءَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ۔(سورۃ احزاب:آیت ۵)
پکارو! لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں پھر اگر نہ جانتے ہو انکے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں
یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے باپ کی طرف کی جائے کسی نے لے پالک بنا لیا تو وہ واقعی یعنی حقیقی باپ نہیں بن گیا۔
غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباہ والتباس واقع نہ ہونے پائے۔ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو آزاد کرکے متبنیٰ کرلیا تھا چنانچہ لوگ انہیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارنے لگے جب یہ آیت نازل ہوئی سب زید بن حارثہ کہنے لگے۔ (تفسیر عثمانی 2/341)
شرعا لے پالک وارث نہیں ہوتا خواہ اپنے خاندان کاہو یا غیر خاندان کاہو۔(آپکے مسائل اور انکا حل:7/422)