Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
روزہ کے بدلہ میں فدیہ دینا

سوال:۔جوانسان روزہ نہیں رہتا یا انکا روزہ چھوٹ گیا ہو او روہ رہنا نہیں چاہتا ہو تو غریب کو ایک روزے کا کتنا پیسہ دے سکتے ہیں؟
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق: جب آدمی بوڑھا ہوجائے اور روزہ رکھنے کی طاقت باقی نہ رہے تو روزہ کے بدلہ میں فدیہ دینے کی شرعی طور پر اجازت ہے۔(فتاوی قاسمیہ 11/23)
اگر آئندہ صحت یابی کی کوئی امید نہیں ہے تو فدیہ دینے کی گنجائش ہے لیکن اگر کسی زمانہ میں صحت یاب ہوجائے تو روزہ کا کفارہ لازم ہوگا۔(فتاوی قاسمیہ ج11/525)
فمن کان منکم مریضاً اوعلی سفر فعدۃ من ایام أخر۔ (البقرہ 173)
المریض اذا تحقق الیاس من الصحۃ فعلیہ الفدیۃ کل یوم من الفرض۔(شامی کتاب الصوم باب ماجاء یفسد الصوم ومالا یفسد،کراچی 2/427 زكريا 3/410)
عن عطاء سمع بن عباس یقرأ ”وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین“۔ قال بن عباس:لیست بمنسوخۃ ہوالشیخ الکبیر والمرأۃ الکبیرۃ لا یستطیعان ان یصوما فیطعمان مکان کل یوم مسکیناً۔(صحیح البخاری باب ماجاء فی ایام معدودات)
فدیہ کے مستحق وہ نادار فقیر ہیں جو مستحق زکوۃ ہیں۔(فتاوی قاسمیہ 11/524)
فدیہ میں روزانہ ایک صدقہ یا اسکی قیمت فقیر کو دینا ہے اور صدقہ فطر کی مقدار موجودہ اوزان کے حساب سے ڈیڑھ کلو 74گرام 640ملی گرام گیہوں ہے۔ (فتاوی قاسمیہ 11/525)
عن بن عمر ؓعن النبیﷺ فی الذی یموت وعلیہ رمضان ولم یقضہ قال یطعم عنہ لکل یوم نصف صاع من بر (سنن الکبری للبیہقی الصیام باب من قال اذافرط فی القضاء دارالفکر6/299)
عن بن عمر ؓ عن النبی ﷺقال:من مات وعلیہ صام شہر فلیطعم عنہ مکان کل یوم مسکینا۔(سنن الترمذی الصوم باب ما جاء فی الکفارۃ۔الہندیہ1/152)