Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
کیا جھینگا کھانا جائز ہے؟

سوال:کیا جھینگا کھانا جائز ہے؟ قرآن وحدیث قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب دیں۔
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق: جھینگا کھانا جائز ہے لیکن بعض فقہاء کے نزدیک منع ہے لہذا احتیاط یہ ہے کہ اس کو نہ کھایا جائے (منتخبات نظام الفتاویٰ 3/489)
دریائی جھینگا اقسام مچھلی میں داخل ہے اس کا کھانا حلال اور درست ہے۔(فتاوی قاسمیہ 24/122)
جھینگا کو ماہر حیوانات علامہ دمیری ؒنے حیاۃ الحیوان میں مچھلی میں شمار فرمایا ہے اس لئے مچھلی ہونے میں کوئی شبہ نہ ہونا چاہئیے۔(فتاوی قاسمیہ 24/124)
الروبیان ہو سمک صغیر جداً احمر۔(حیاۃ الحیوان 1/371)
اہل فتاوی میں سے بعض حضرات کو جھینگا کے مچھلی کی قسم میں سے ہونے سے شبہ ہونے کی وجہ سے ان حضرات نے اس سے منع فرمایا ہے مگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جھینگا مچھلی کی ایک قسم ہے اور اسکا کھا نا بلا تردد جائز ہے اور درست ہے اس لئے کہ حنفیہ کے نزدیک سمک بجمیع اجزاۂ حلال ہے۔(فتاوی قاسمیہ 24/125)
اکثر علماء کے نزدیک دریائی جھینگے کی سبھی اقسام حلال ہیں۔(کتاب النوازل 14/10/411)