Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
قبر کی چوڑائی اور گہرائی؟

سوال: قبر کی چوڑائی اور گہرائی کیا ہونا چاہئے؟
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق:قبر کے اوپر کا حصہ توسینے کے برابر یا پورے قد کے برابر ہونا چاہئے اورجس جگہ میت کورکھاجاتاہے وہ جگہ اتنی گہری ہو کہ قبر کا تختہ اسکے جسم سے نہ لگے تقریباً دوبالشت کی مقدار گہری ہوتوتختہ میت کے جسم سے نہیں لگے گا میت کو قبر میں دفن کرتے وقت نہ فرشتوں کے آنے کیلئے جگہ رکھنے کی ضرورت ہے نہ میت کے بیٹھنے کیلئے ضرورت ہے جب فرشتے آئینگے وہ خودبیٹھنے کی جگہ کرلیں گے اورقبر کی مٹی میت کے حق میں پانی کے طرح نرم ہوجائے گی۔ (فتاویٰ محمودیہ جلد/13،صفحہ 254)
نیز: اگر قبر صندوقی ہو تو قبر کا صندوق کم ازکم نصف قد کے برابر ہونا چاہئے سینہ کے برابر گہراہو تو بہتر ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ جلد/13،صفحہ 256-257)
قبر کا قاعدہ یہ ہے کہ اول توبغلی قبر افضل ہے اگر بغلی نہ ہو، صندوقی ہو،توبانس یا تختے میت کے جسم سے متصل ہونے چاہئے اورجس حصہ میں مٹی بھری جاتی ہے وہ زیادہ گہراہونا چاہئے تاکہ جانوروں سے خوب حفاظت رہے۔ (امدادالاحکام جلد:453/2)
بغلی اور شقی دونوں قسم کی قبر بناناجائزہے اگر زمین سخت ہے توبغلی قبر بناناافضل ہے اورنرم زمین جہاں قبر بیٹھ جانے کا احتمال ہو وہاں شقی قبر (صندوقی قبر) بنانے میں کوئی حرج نہیں قبر لحدی بنائی جائے یاشقی سنت طریقہ یہ ہے کہ قبر میں میت کو رکھنے کے بعد کچی اینٹیں یا(نرکل) بانس اس پر چنے جائیں اور شقی قبرہوتو میت کوقبر میں رکھنے کے بعد کچی اینٹوں یاتختوں سے اسپر چھت بنائی جائے تاکہ مٹی ڈالتے وقت مردے پر مٹی نہ گرے حضوراقدس,ﷺکی قبر مبارک میں بھی اسی طرح کچی اینٹیں چنی گئی تھی۔ (فتاوی رحیمیہ جلد: 7/ صفحہ 72)
ہمارے علاقوں میں زمین نرم ہونے کی وجہ سے صندوقی قبر بنانے کا دستور ہے اسکے دو حصے ہوتے ہیں ایک وہ حصہ جس میں میت کو رکھا جاتاہے اور ایک تختوں سے اوپر کا حصہ توفقہی عبارات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ تختوں سے اوپری حصہ کی گہرائی کم ازکم آدمی کے نصف قدکے برابر ہونی چاہئے اور اندر کے حصہ کی گہرائی کم ازکم اتنی ہو کہ اس پر تختہ رکھنے سے وہ تختے میت کے بدن سے نہ لگے۔(کتاب المسائل ج 2/ ص / 95)
وحفر قبر مقدار نصف قامۃ فان زاد فحسن۔(شامی زکریا3۔39/138)
ومن حفر قبر النفسہ قبل موتہ فلا بأس بہ ویوبوعلیہ ھکذا عمل عمربن عبدالعزیز والربیع بن خثیم وغیرھم۔
وفی بعض النوادرعن محمد انہ قال ینبغی ان یکون مقدارالعمق الی صدر رجل وسط القامہ قال وکل مازادفھوفضل وعن عمررضی اللہ عنہ قال یعمق القبر الی صدر الرجل وان عمقوا مقدار قامۃ الرجل فھواحسن وفی الحجۃ۔
وروی الحسن بن زیاد عن ابی حنیفۃ قال طول القبر علی قدرطول الانسان وعرضہ قدر نصف قامتہ وقال خلف بن ایوب ینبغی ان یکون عمق القبر الی السرۃ (تاتارخانیہ جلد3/64۔الجنائز القبر والدفن)
وماروی عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فغیرمشھور ولایوخذ بہ اھھ واختلفوافی عمیق القبر فقیل قدر نصف القامۃ وقیل الی الصدرو ان زادوافحسن۔ (البحر الرائق جلد: 2/338کتاب الجنائز)
وصفۃ الشق: ان یحفر حفیرۃ فی وسط القبر فیوضع فیہ المیت ویجعل علی اللحد اللبن ولقصب لما روی انہ وضع علی قبر رسول اللہ ﷺ طن من قصب۔ (بدائع الصنائع جلد: 2/60)
اسلام نے قبر کے بارے میں جوتعلیم دی ہے اسکاخلاصہ یہ ہے کہ: قبر کشادہ اورگہری کھودی جائے کم ازکم آدمی کے سینے تک ہو۔ (آپ کے مسائل اور انکا حل جلد: 4/313)
ومقدار عمق القبر قدر نصف قامۃ وذکر فی الروضۃ وفی الذخیرۃ الی صدرالرجل اووسط القامۃ فان زادوافھوافضل وان عمقوامقدار قامۃ فھواحسن فعلم بھذا ان الاولیٰ نصف القامۃ۔ (حلبی کبیر صفحہ 596)