Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمائی آتی تھی؟

سوال: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی جمائی آتی تھی؟ اور کیا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکھی بیٹھی تھی؟ جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جمائی نہیں آتی تھی، حضرت یزید بن اصم کی روایت میں اس کی صراحت موجود ہے، کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی جمائی نہیں آتی تھی،مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت یزید بن اصم کی مرسل روایت مذکور ہے، اور اس کی وجہ یہی ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، اور شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرکبھی غالب نہیں ہوسکا۔
عن یزیدبن الأصم قال: ما تثاء ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی صلاۃ قط۔ (المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الصلاۃ، باب فی التثاء ب فی الصلاۃ، مؤسسہ علوم القرآن 317/5، رقم: 8065)
ومن الخصائص النبویۃ ما أخرجہ ابن أبی شیبۃ والبخاری فی ”التاریخ“ من مر سل یزید بن الأصم قال: ماتثاء ب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قط، واخرج الخطابی من طریق مسلمۃ بن عبد الملک بن مروان قال: ماتثاء ب نبی قط، ومسلمۃ أدرک بعض الصحابۃ وہو صدوق، ویؤید ذلک ماثبت أن التثاء ب من الشیطان ووقع فی الشفاء لابن سبع: أنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان لایتمطی، لأنہ من الشیطان۔ (فتح الباری، کتاب الأدب، باب إذا تثاء ب فلیضع یدہ علی فیہ، دارالفکر 613/10، رقم: 5985، ف: 6226، اشرفیہ دیوبند 747/10)
(2) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر مکھی بیٹھنے سے متعلق ہمیں کوئی صریح مستند روایت نہیں ملی سکی، البتہ علامہ سیوطی ؒ نے قاضی عیاض ؒ کی ”شفاء“ کے حوالہ سے الخصائص الکبریٰ میں یہ نقل کیاہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پرمکھی نہیں بیٹھتی تھی۔
ذکر القاضی عیاض فی الشفاء فی مولدہ أن خصائصہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان لا ینزل علیہ الذباب وذکرہ ابن سبع فی الخصائص بلفظ أن لم یقع علی ثیابہ ذباب قط زادأن من خصائصہ أن القمل لم یکن یؤذیہ۔ (الخصائص الکبریٰ، باب مالا ینزل الذباب علی ثیابہ ۱/۶۸) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم (فتاوی قاسمیہ جلد 2، صفحہ:354- 355)