Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
رقم دے کر متعین نفع حاصل کرنا؟

سوال: مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک کاروباری کو دولاکھ روپے دئے اور اس نے کہا کہ میں تم کو ہر مہینہ چودہ یا پندرہ ہزار روپے تعین نفع دوں کا کاروبار میں مجھے چاہے نقصان ہو یا نفع تو معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسا کرنا سچ ہے؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ کسی کاروبار میں رقم لگا کر نفع حاصل کرنے کے جائز ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ نفع کے ساتھ نقصان میں بھی شرکت ہو اور نفع بھی نحس رقم کی صورت میں مقرر نہ ہو، بلکہ مضاربت (انویسمٹ) میں نفع کی تعیین نفع کے فیصد کے اعتبار سے کرنا ضروری ہے، اگر نفع کی تعین ایک مقرر رقم کے ذریعے کی جائے، یا نقصان کی شرط کام کرنے والے ہی پر لگائی جائے، یا کاروبار ہی نہ ہو، بلکیش رقم دے کر نفع لیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے، بلکہ یہ قرض دے کر اس پر نفع حاصل کرتا ہے، اور قرض دے کر اس پر مشروط نفع حاصل کرنا سود ہے، اور سود کا لینا دینا، اس کا معاملہ کرنا نا جائز حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ لہذا آپ نے سوال میں جوصورت ذکر کی ہے اس سے مراد یہی صورت ہے تو شرعا نا جائز ھے۔ اور اگر کوئی اور صورت ہے تو وضاحت کے ساتھ سوال کر ہیں۔ حدیث مبارک میں ہے
عن جابر، قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، 1219/3، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ، ط:، دار احیاء التراث، بیروت)(مشکاۃ المصابیح، باب الربوا، ص: 243، قدیمی) فقط واللہ اعلم