Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
قسطوں پرخر یداری؟

سوال: مفتی صاحب معلوم ہی کرنا ہے کہ آج کل جو قسطوں پر پلاٹ وغیرہ کی خریداری کا کمی بیشی کے ساتھ چل رہا ہے کیا یہ جائز ہے؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: آج کل جوقسطوں پر بیع کا سلسلہ عام ہے جس میں سامان بیچنے والا اور خریدنے والا ایک مجلس میں بیع کر تے ہیں، بائع عموما اپنے سامان کی قیمت نقدبیع کی بہ نسبت زیادہ لگاتا ہے،اورخریدنے والے کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ ایک متعین مدت تک وہ تھوڑی تھوڑی رقم قسط وارادا کرتا رہے، جس میں اس کو سہولت ہو اور آسانی ہوتی ہو، یہ بیع درست ہے؛ کیوں کہ اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ بائع کو اپنی چیز میں اختیار ہے جس قیمت پر چاہے بچ سکتا ہے، اس لئے اس بیع کے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے، لہذا اگر مسؤلہ صورت میں بھی اسی طرح بیع ہوتی ہے اور قسطوں کے اعتبار سے وصول یابی کی جاتی ہے تو یہ جائز ہے، اور نقد وادھار قیمت میں جوفرق ہے وہ سود نہیں ہے؛ تاہم سب قسطیں بروقت ادا کی جائیں، اگر بروقت ادا نہ کرنے کی وجہ سے مقررہ رقم سے زیادہ دی جائے تو یہ معاملہ سود میں داخل ہو جائے گا۔ (مستفاد فقہی مقالات 72/1،احسن الفتاوی 519/6، جدیدفقہی مسائل 368، آپ کے مسائل اور ان کامل 146/6)
قال الإمام الترمذی وقد فسر بعض أہل العلم قالوا بیعتین فی بیع ان یقول: ابیعک ہذا الثوب بنقد بعشرۃ وبنسیءۃ بعشرین ولا یفارقہ علی احد البیعین فإذا فارقہ علی احدہما فلا بأس إذا کانت العقدۃ علی واحد منہما، (سنن الترمذی / باب النہی عن بیعین 233/1) فقط واللہ تعالی اعلم (کتاب النوازل جلد 10 صفحہ 300-301)