Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
فجر کی سنت کی قضاء؟

سوال:مفتی صاحب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا قضاء کرنا ضروری ہے؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: قضاوقت کے بعد واجب کی ادائیگی کو کہتے ہیں اس معنی کے اعتبار سے کسی سنت کی قضا نہیں ہے لیکن اگر فجر کی نماز مع سنت کے چھوٹ جائے تو زوال سے پہلے پہلے فرض کے ساتھ سنت کی قضا کرنے کا بھی حکم تبعاً للفرض ہے اور زوال کے بعد کسی اور وقت میں صرف فرض کی قضا ہے مراقی الفلاح میں ہے:
ولم نقض سنۃ الفجر إلا بقوتہا مع الفرض إلی الزوال (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 453)
اسی طرح اگر فجر کی صرف سنت رہ گئی تو امام محمدرحمہ اللہ کے قول پرطلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے تک اسے پڑھ لینے کو بہتر کہا ہے۔
قال محمد: وتقضی منفردۃ بعد الشمس قبل الزوال فلا قضا لہا قبل الشمس ولا بعد الزوال اتفاقا (حوالہ بالا: 453)
پس امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پرطلوع آفتاب کے بعد فجر کی سنت پڑھ لینا جائز ہے۔ اللہ تعالی اعلم