Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
ترک واجب کی وجہ سے نماز کا حکم؟

حضرت مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
حضرت مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ زید نماز مغرب ادا کررہا تھا زیدکا دوسری رکعت کا قعدہ اول چھوٹ گیا اور وہ تیسری رکعت میں سجدہ سہوہ بھی نہیں کیا نماز کے مکمل ہونے کے بعد زید کو یاد آیا کے میرا قعدہ اول چھوٹ گیا ہے اس صورت میں زید کیا کرے نماز کو دوبارہ ادا کرنا ہوگا وغیرہ؟ رہنمائی فرمائے مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسؤلہ میں ایسی نماز کا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہے، اور وقت کے بعد اعادہ واجب نہیں ہے۔
الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین (رد المحتار) (1/ 457)
کو دوبارہ ادا کرنا ہوگا وغیرہ؟ رہنمائی فرمائے مہربانی ہوگی۔
وکذا کل صلاۃ أدیت مع کراہۃ التحریم تجب إعادتہا. (قولہ: وکذا کل صلاۃ إلخ) …… الا أن یدعی تخصیصہا بأن مرادہم بالواجب والسنۃ التی تعاد بترکہ ما کان من ماہیۃ الصلاۃ وأجزاۂا، فلا یشمل الجماعۃ؛ لأنہا وصف لہا خارج عن ماہیتہا……الخ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ الطوری (2 / 87)
لا وجوب بعد الوقت، فالحاصل أن من ترک واجبًا من واجباتہا أو ارتکب مکروہًا تحریمیًّا لزمہ وجوبًا أن یعید فی الوقت فإن خرج الوقت بلا إعادۃ أثم و لایجب جبر النقصان بعد الوقت فلو فعل فہو أفضل۔ فقط واللہ اعلم