Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
سودی قرض لے کر کاروبار؟

سوال: مجھے کچھ کام شروع کرنا ہے اُسکے لے میرے پاس پیسوں کا انتظام نہیں ہے، اہلیہ سے بات کی جو ہار انکے پاس ہے اسکو بیچ کر کُچھ انتظام ہو سکتا ہے، اہلیہ اسپر راضی نہیں کہ بیچا جائے وہ چاہتی ہے کہ سونار کے پاس گروی رکھ دیا جائے اسپر میں نے انکو سمجھایا کہ یہ حرام ہو جائیگا، تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنے میکے میں بول دیتی ہو وہ پیسے دیدینگے اور ہار بینک میں رکھ دینگے انکا سامان بینک میں ہی رکھا رہتا ہے اور جو بھی % ہوگا وہ خود چُکا دینگے ہمیں نہیں دینا۔ آپسے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کیا کرنا چاہئے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: بینک سے قرض لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس کا لینا، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، بینک عموماً جو قرض دیتا ہے وہ سراسر سود پرمشتمل ہوتا ہے، خواہ کوئی چیز گروی رکھوا کر لیا جائے یا بغیر گروی رکھے لیا جائے، اس لیے بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔
اعلاء السنن میں ہے
قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو ہدیۃً فأسلف علی ذلک إن أخذ الزیادۃ علی ذلک ربا۔ (باب کل قرض جر منفعۃ، کتاب الحوالہ، ط: ادارۃ القرآن) فقط واللہ اعلم