Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
میت کے گھر میں ہونے والی رسومات کا حکم؟

سوال: یہ ہے کہ میت کے گھر میں جو بعد میں کھانا ہوتا ہے شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کا کھانا کیسا ہے؟
اور جو تین دن تک میت کے گھر میں کھانا نہیں بنتا بلکہ کھانے کا انتظام کوئی اور کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق:(پهلا اور تيسرا) واضح رہے کہ ضیافت خوشی و مسرت کے مواقع پر ہوتی ہے، نہ کہ میت کے گھر والوں کی طرف سے، میت کے گھر والے چوں کہ خود غم کا شکار ہوتے ہیں اس لیے میت کے اقرباء کے لیے مستحب ہے کہ میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجیں، میت کے گھر والوں کی طرف سے ضیافت قابلِ ترک عمل ہے۔ اسی لیے فقہاء نے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ اور بدعتِ مستقبحہ قرار دیا ہے۔
ہاں! جو لوگ دور دراز سے جنازہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں او رکسی وجہ سے واپس نہیں ہوسکتے اور اہلِ میت یا ان کے قریبی اعزہ ان کے لیے کھانے کا نظم کردیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے اور ان کے لیے میت کے گھر کھانے میں حرج نہیں اور وہ کھانا خود میت کے گھر بھی پکایا جا سکتا ہے اور نزدیک پڑوسی کے گھر میں بھی، دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں۔
دوسرا) جس گھر میں میت ہوجائے ان کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی اجازت ہے۔رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کو ایسی خبر پہنچی ہے جو ان کو مشغول کرے گی (یعنی جعفر کی شہادت کی خبر سن کر صدمہ اور رنج میں مشغول ہوکر کھانے پینے کے انتظام کی خبر نہیں رہے گی۔ واللہ اعلم