Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
جنازہ کے احکام؟

سوال: اگر کسی کے گھر میں جنازہ مرد یا عورت کا ہوتو، سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
جنازہ کو کیسے اور کس طرح لٹانا چاہیے؟
غسل، نماز جنازہ اور دفن کے متعلق شرعی احکام،فرائض، واجبات اور سنتیں کیا ہے؟
جنازہ کی نماز کے بعد اور دفن کے بعد اور قبرستان کے باہر دعاء کا کیا حکم ہے؟
اس طرح کے مسائل جاننے کے لئے ایک عام مسلمان کے لئے کون سی کتاب مستند ہے، جس مطالعہ کیا جائے؟ برائے مہربانی تسلی بخش وضاحت کے ساتھ جواب مطلوب ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللّٰہ التوفیق: انتقال کے وقت اس کے پاس بیٹھ کر سورہ یاسین پڑھنی چاہئے اور قریب المرگ شخص کو داہنی کروٹ پر قبلہ رخ لٹادینا چاہئے اور اس کے پاس بیٹھنے والے لوگ کسی قدر بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھیں؛ لیکن میت کو پڑھنے کے لئے نہ کہا جائے۔ (مستفاد: بہشتی زیور 2/77)
ویسن توجیہ المحتضر أی من قرب من الموت علی یمینہ؛ لأنہ السنۃ، وجاز الاستلقاء علی ظہرہ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، باب أحکام الجنائز قدیم ۵۰۳، جدید دارالکتاب دیوبند 558، ہدایۃ، کتاب الصلوۃ، باب الجنائز اشرفی دیوبند 178/1)
اور غسل کے وقت بھی مذکورہ طریقہ پر لٹا کر غسل دینا چاہئے، سب سے پہلے میت کو اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر استنجاء کرائے، پھر وضو کرائے؛ لیکن ناک، کان میں پانی نہ ڈالے؛ بلکہ بھیگے کپڑے سے اس کو پونچھ دے اور پورے بدن پر تین مرتبہ پانی بہادیا جائے۔ (مستفاد: بہشتی زیور52/2)
وصورۃ استنجاء ہ أن یلف الغاسل علی یدیہ خرقۃ، ویغسل السوء ۃ؛ لأن مس العورۃ حرام کالنظرإلیہا، ولاینظر الرجل إلی فخذالرجل، وکذا المرأۃ لاتنظر إلی فخذ المرأۃ، ثم یوضأ وضوء ہ للصلاۃ، ولایمضمض، ولایستنشق۔ ومن العلماء من قال: یجعل الغاسل علی إصبعہ خرقۃ رقیقۃ، ویدخل الإصبع فی فمہ ویمسح بہا أسنانہ ویدخل فی منخریہ أیضاً۔ (ہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، زکریا قدیم158/1، جدید 219/1)
دفن کے وقت میت کو قبلہ کی جانب سے اتارا جائے اور قبر میں اتارتے وقت بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ پڑھنا چاہئے، میت کو قبر میں اتارنے کے بعد دائیں کروٹ قبلہ رخ لٹادیا جائے، اس کے بعد اس کی کفن کی گرہوں کو کھول دیا جائے، پھر مٹی ڈالتے وقت ”منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ أخری“پڑھے۔
ویدخل المیت ممایلی القبلۃ، وذلک أن یوضع فی جانب القبلۃ من القبر و یحمل المیت منہ ویوضع فی اللحد، فیکون الأخذ لہ مستقبل القبلۃ حالۃ الأخذ، کذا فی الفتح، ویقول واضعہ: بسم اللہ و علی ملۃ رسول اللہ، ویوضع فی القبر علی جنبہ الأیمن مستقبل القبلۃ، وتحل العقد۔ (ہندےۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی صلوۃ الجنائز، الفصل السادس فی القبر والدفن، زکریا قدیم166/1)
ویستحب لمن شہد دفن المیت أن یحثو فی قبرہ ثلاث حثیات من التراب بیدیہ جمیعاً، ویکون من قبل رأس المیت ویقول فی الحثےۃ الأولیٰ ”منہا خلقناکم“ و فی الثانےۃ ”وفیہا نعیدکم“ وفی الثالثۃ ”ومنہا نخرجکم تارۃ أخری“ کذا فی الجوہرۃ النیرۃ۔ (ہندیۃ، زکریا قدیم 166/1، جدید 227/1)
ہاتھ اٹھاکر قبروں کی طرف رخ کر کے اجتماعی طورپر بالجہر دعا کرنا ثابت نہیں، البتہ اتنا ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن کے بعد قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعا فرمائی ہے، لہذا اگر کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو قبر کی طرف پشت یا دائیں بائیں الگ ہو کر قبلہ کی طرف رخ کرکے جبکہ سامنے قبر یں نہ ہوں ہاتھ اٹھاکر دعاکر سکتاہے، تاکہ شبہ نہ ہو کہ اہل قبر سے مانگ رہا ہے، البتہ اجتماعی دعا کا التزام نہیں ہونا چاہئے کبھی کبھار ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔(مستفاد: امداد الاحکام زکریا318/1، فتاویٰ محمودیہ قدیم ۰80/10، جدید ڈابھیل 146/9، احسن الفتاویٰ زکریا224/4)
قال ابن تیمیۃ فی اقتضاء الصراط المستقیم فإنہ إنما یرخص فیما إذا سلم علیہ ثم أراد الدعاء أن یدعو مستقبل القبلۃ أما مستدبر القبر أو منحرفاًعنہ ولا یدعو مستقبل القبر۔(بحوالہ امدادالأحکام 318/1) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم (فتاویٰ قاسمیہ10,9/ کتاب الجنائز)
عام مسلمانوں کے لئے بہشتی زیور (حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ) بہت مناسب کتاب ہے جس میں روز مرہ پیش آنے والے بہت سے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اور کئی زبانوں میں بھی موجود ہے۔
فقط والله اعلم