Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
ایصال ثواب کی نیت سے لوگوں کے درمیان چیزیں تقسیم کرنا؟

سوال: ایک آدمی پانی یا کھانا یا کپڑا اس نیت سے لوگوں کے درمیان تقسیم کر رہا ہے کہ اس کا ثواب شہداء کربلا کو پہونچے تو اس طرح سے تقسیم کرنا جائز ہے اور لینے والے کے لئے کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: میت کو ثواب پہنچانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر آدمی جب چاہے، نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، صدقہ خیرات وغیرہ کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچا دیا کرے، اس میں مخصوص دن و تاریخ کا التزام نہ کرے۔
ماہ محرم خصوصاً نویں، دسویں، گیارہویں تاریخ میں بعض لوگ کھانا پکاکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روح کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں، یہ طریقہ بالکل غلط ہے، اور اس مروجہ طریقے میں کئی قباحتیں ہیں:
1۔ جن ارواح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اگر ان کو نفع ونقصان کا مالک سمجھا گیا اور ان کے نام سے وہ کھانا پکایا گیا تو یہ شرک ہے، اور ایسا کھانا ”مَا اُھلَّ بِہ لِغَیْرِ اللّٰہِ“ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ 2۔ عموماً یہ خیال کیاجاتا ہے کہ جو چیز صدقہ میں دی جاتی ہے، میت کو بعینہ وہی ملتی ہے؛حالانکہ یہ خیال بالکل باطل ہے، میت کو وہ چیز نہیں پہنچتی؛ بلکہ اس کا ثواب پہنچتا ہے۔
3۔ ایصالِ ثواب میں اپنی طرف سے قیود لگانا، مثلا صدقہ کی متعین صورت یعنی کھانا، مہینہ متعین، دن متعین، حالانکہ شریعت نے ان چیزوں کی تعیین نہیں فرمائی ہے، جو چیز چاہیں جب چاہیں صدقہ کرسکتے ہیں، شریعت کی دی ہوئی آزادی پر اپنی طرف سے پابندیاں لگانا گناہ اور بدعت، بلکہ شریعت کا مقابلہ ہے۔ (مستفاد از احسن الفتاوی،ج:2، ص:392، ط: ایچ، ایم، سعید) واللہ اعلم