Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
تقدیر معلق اور مبرم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ تقدیر معلق اور تقدیر مبرم کا کیا ہے؟ ذرا تفصیل سے سمجھا دیجئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: شریعت کی اصطلاح میں ”تقدیر“ نام ہے قضاء (فیصلہ) کا یعنی کائنات کے بارے میں اللہ تعالی نے ازل سے جو پلاننگ کی ہے، اس کانام تقدیر الٰہی ہے۔ (تحفۃ الالمعی: 479/5، شروع ابواب القدر)
تقدیر کی دوقسمیں ہیں: (1) مبرم یعنی محکم وائل فیصلہ جو کبھی بدلتا نہیں۔ (2) معلق یعنی وہ تقدیر جو اعمال وغیرہ پر منحصر ہوتی ہے، ان کی وجہ سے اس میں تبدیلی آتی ہے؛ لیکن یہ تقسیم محض بندوں کے اعتبار سے ہے، علم الٰہی میں ہر چیز ”مبرم“ ہے، کوئی چیز معلق نہیں ہے۔
اعلم أن للہ تعالی فی خلقہ قضائین مبرماً ومعلقاً بفعلٍ کما قال: إن فعل الشیء الفلانی کان کذا وکذا، وإن لم یفعلہ فلایکون کذا وکذا••••• وأما القضاء المبرم فہو عبادۃ عما قدرہ سبحانہ فی الأزَل من غیر أن یعلقہ بفعل الخ (مرقاۃ، رقم الحدیث: 5750، باب فضائل سید المرسلین)
تقدیر سے متعلق مزید تفصیل دیکھنے کے لیے تحفہ الالمعی (479/5، ابواب القدر) کا مطالعہ کریں، یہ کتاب کتب خانوں پر دستیاب ہے، نیز ”نیٹ“ سے بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
تقدیر میں کیا لکھا ہوا ہے، اس کے درپے نہیں ہونا چاہئے، حدیث میں ”تقدیر“ میں زیادہ غورو خوض کرنے کی ممانعت آئی ہے، آدمی کو چاہئے کہ اجمالاً ”تقدیر“ پر ایمان رکھے، اور اسے جن امور کا حکم دیا گیا ہے انہیں انجام دے اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے، ان سے بچے۔ فقط واللہ اعلم