Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
قضاء نماز، روزے کا فدیہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: کسی شخص کی بیماری کی حالت میں نماز اور روزے جو قضاء ہو رہے ہیں ان کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: اگر عمر کی زیادتی اور بیماری کی بناء پر آئندہ کبھی روزے رکھنے کی طاقت واپس آنے کی امید نہ ہو تو روزوں کا فدیہ دیا جا سکتا ہے، لیکن اگر طاقت واپس آنے کی امید ہو تو قضاء ہی واجب ہے، فدیہ دینے کے باوجود اگر طاقت آگئی تو پھر قضاء رکھنا واجب ہوگا، اور ایک روزے کا فدیہ نصف صاع (ایک کلو 633/ گرام) گیہوں یا ایک صاع (3/ کلو 266/ گرام) جو، کھجور یا کشمش یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت ہے۔
نماز کا فدیہ زندگی میں نہیں ادا کیا جاسکتا، وصیت کی صورت میں آدمی کے انتقال کے بعد ہی ادا کیا جاسکتا ہے، اور ایک نماز کا فدیہ وہی ہے جو صدقہ فطر کی مقدار ہے، یعنی: نصف صاع (ایک کلو 633/ گرام) گیہوں یا ایک صاع (3/ کلو 266/ گرام) جو، کھجور یا کشمش یا ان میں سے کسی کی قیمت دیدی جائے، صدقہ فطر یا نماز کے فدیہ میں دسترخوان پر بٹھاکر غریبوں کو کھانا کھلانا کافی نہیں ہے؛ بلکہ فدیہ کا گیہوں، جو، کھجور یا کشمش یا ان میں سے کسی کی قیمت کا مالک بنانا ہی ضروری ہے
ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر کالفطرۃ، وکذا حکم الوتر والصوم (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ۲: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتب زکریا دیوبند)
قولہ: ”نصف صاع“: أی: أو من دقیقہ أو سویقہ أو صاع تمر أو شعیر أو قیمتہ …إمداد (رد المحتار)، وفی القنیۃ: ولا فدیۃ فی الصلاۃ فی حالۃ الحیاۃ بخلاف الصوم (رد المحتار 535/2)
وھو -مصرف الزکاۃ- مصرف أیضاً لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذلک من الصدقات الواجبۃ کما فی القھستانی۔ (رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، 283/3)
فقط والله اعلم