Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
تدفین کے بعد قبر پر ٹھہرنے کا حکم

سوال: مفتی صاحب! ایسا کہیں پڑھنے میں آیا ہے کہ کِسی کے والدین یا عزیز کا اِنتقال ہوجائے تو اُسے دفن کرنے کے بعد قبر کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرتے رہنا چاہیئے اتنی دیر تک جتنا کہ ایک اونٹ ذبح ہوکر اُس کا گوشت تقسیم ہوجائے، اس سے دفن ہونے والے کی روح کو تسلی ملتی ہے۔ کیا ایسی کوئی صحیح حدیث ہے؟ اور اگر ہے تو ہمارے شہر مالیگاؤں میں جو مٹی دینے کے فوراً بعد جنازہ ہال میں متوفی کے گھر والوں تسلی دینے کا مسنون عمل کیا جاتا ہے اِس سے مذکور بالا حدیث کے مطابق عمل کیسے ہوسکتا ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: فقہاء نے فرمایا: مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس (کم از کم) اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لئے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور قرآن پاک پڑھنا چاہیے، جیسے: میت کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھنی چاہیے۔ اور اس کا ثبوت درج ذیل احادیث سے ہے
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے اور فرماتے: اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالی سے اس کے لیے (منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں)ثبات قدمی کا سوال کرو؛ کیوں کہ اب اس سے سوال کیا جائے گا (سنن ابو داود بہ حوالہ مشکوۃ شریف، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کر مت رکھو اور جلد از جلد اسے اس کی قبر تک پہنچاؤ اور (دفن کے بعد) اس کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتیں (شروع سے ھم المفلحون تک) اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں (آمن الرسول سے آخر تک) پڑھی جائیں اور بیہقی نے فرمایا: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ (شعب الایمان، بہ حوالہ: مشکوۃ شریف)۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سکرات کی حالت میں اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ آگ، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرو کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے تاکہ تمہاری وجہ سے مجھے انس رہے اور میں جان سکوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دے رہا ہوں؟ (مسلم شریف، بہ حوالہ مشکوۃ شریف)۔
عن عثمان رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاۃ المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثانی، ص 26، ط: المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)،
وعن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحۃ البقرۃ وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ“، رواہ البیھقی فی شعب الإیمان
وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، وانظر مرقاۃ المفاتیح أیضاً)،
وعن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ قال لابنہ وھو فی سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبنی نائحۃ ولا نار فإذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبری قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربی؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)،
ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ۃ بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مکتبۃ زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مأخذ: دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند