Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
جمعه كي نماز ميں اذان ثانی کا حکم

سوال: جمعہ میں خطبہ کے وقت جو اذان ہوتی ہے کیا وہ مسجد کے باہری دروازے کے پاس کہنا چاہیے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: جمعہ کی اذانِ ثانی کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ خطیب کے سامنے دی جائے، حدیث میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دی جاتی، فقہاء نے بھی اسی کی صراحت کی ہے اور سلف سے یہی توارث چلا آرہا ہے۔
قال فی الشامی: ویؤذن ثانیاً بین یدیہ أی الخطیب ••••• إذا جلس علی المنبر۔ (83/3)
وفی فتح القدیر: وإذا صعد الامام المنبر جلس وأذن المؤذنون بین یدی المنبر بذلک جری التوارث۔ (83/2)
حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے جمعہ کی اذان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی اور مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی، لیکن یہ دروازہ مسجد کے اندرونی حصہ میں منبر کے سامنے تھا۔
کما افادہ الشیخ ظفر أحمد العثمانی فی اعلاء السنن۔ (68/8)
الحدیث: عن السائب بن یزید قال: کان یؤذن بین یدی رسول اللہ إذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وأبی بکر وعمر ثم ساق نحو حدیث یونس۔ رواہ ابوداؤد۔ (464/1) واللہ تعالیٰ اعلم
مأخذ: دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند