Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
مرد و عورت کے رکوع کا طریقہ

سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام کہ: عورت کو رکوع میں کتنا جھکنا چاہئے؟ اور سجدہ کس طرح کرنا چاہئے، نیز مرد کے رکوع کا کیا طریقہ ہے؟ جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق:مرد رکوع میں اتنا جھکے کہ سر پیٹھ اور سُرین سب برابر ہوجائیں اور عورت تھوڑا سا جھکے یعنی صرف اس قدر کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، پیٹھ سیدھی نہ کرے۔
مرد گھٹنے پر انگلیاں کھلی رکھے اور ہاتھ پر زور دیتے ہوئے مضبوطی کے ساتھ گھٹنوں کو پکڑے اور عورت اپنی انگلیاں ملاکر گھٹنوں پر رکھ دے اور ہاتھ پر زور نہ دے اور پاؤں قدرے جھکے ہوئے رکھے مردوں کی طرح خوب سیدھے نہ کرے، مرد اپنے بازو کو پہلو سے الگ رکھے اور کھل کر رکوع کرے اور عورت اپنے بازو کو پہلو سے خوب ملائے اور دونوں پاؤں کے ٹخنے ملادے او رجتنا ہوسکے سکڑکر رکوع کرے۔
والمرأۃ تنحنی فی الرکوع یسیراً ولاتعتمد ولاتفرج أصابعہا ولکن تضم یدیہا وتضع علی رکبتیہا وضعاً وتنحنی رکبتیہا ولاتجافی عضدتیہا”. (الفتاویٰ الہندیۃ: ج1ص74)
مرد سجدہ کی حالت میں پیٹ کو رانوں سے بازو کو بغل سے جدا رکھے اور کہنیاں اور کلائی زمین سے علیحدہ رکھے اور عورتیں پیٹ رانوں سے اور بازوؤں کو بغل سے ملاہوا رکھیں اور کہنیاں اور کلائیاں زمین پر بچھاکر سجدہ کریں، نیز مرد سجدہ میں دونوں پاؤں کھڑے رکھ کر انگلیاں قبلہ رخ رکھے، عورتیں پاؤں کھڑا نہ کریں بلکہ دونوں پاؤں داہنی طرف نکال دیں اور خوب سمٹ کر سجدہ کریں اور دونوں ہاتھ کی انگلیاں ملاکر قبلہ رخ رکھیں۔
عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی امْرَأَتَیْنِ تُصَلِّیَانِ، فَقَالَ: إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَی الأَرْضِ، فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ لَیْسَتْ فِی ذَلِکَ کَالرَّجُلِ”. (مراسیل أبی داؤد: ص103 باب مِنَ الصَّلاۃِ، السنن الکبری للبیہقی: ج2ص223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَۃ)
ترجمہ: حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو؛ کیوں کہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
فقط والله اعلم