Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
عصاء ہاتھ میں لیکر خطبہ دینا

سوال: جمعہ کی نماز کے خطبہ كے دوران عصاء ہاتھ میں لیکر خطبہ دینا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت مطلوب ھے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: خطیب کے لیے جمعہ کے خطبہ میں عصا کااستعمال جائز ہے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوداؤد شریف کی روایت میں عصا کے ساتھ خطبہ دیناثابت ہے۔لیکن اس ثبوت کے باجود عصا کا استعمال ضروری نہیں اوراسے لازم سمجھنا درست نہیں۔مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’عصاہاتھ میں لے کر خطبہ پڑھناثابت تو ہے،لیکن بغیر عصا کے خطبہ پڑھنا اس سے زیادہ ثابت ہے،پس حکم یہ ہے کہ عصاہاتھ میں لینابھی جائزہے، اور نہ لینابہترہے اور حنفیہ نے اسی کو اختیار کیاہے، پس اس کو ضروری سمجھنا اور نہ لینے والے کو طعن تشنیع کرنادرست نہیں،اسی طرح لینے والے کو بھی ملامت کرنا درست نہیں‘‘۔ (کفایت المفتی، (3/260دارالاشاعت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
وفي الخلاصة : ويكره أن يتكئ على قوس أو عصا ( قوله: وفي الخلاصة إلخ ) استشكله في الحلية بأنه في رواية أبي داود { أنه صلى الله عليه وسلم قام : أي في الخطبة متوكئا على عصا أو قوس} ونقل القهستاني عن المحيط: أنأخذ العصاسنة كالقيام. (6/128)
فتاویٰ الشبکۃ الاسلامیۃ میں ہے: فلا مانع شرعاً منأخذ العصافهذا هو الأصل…ولكنها لا تعتبر سنة بل هو من الأمور العادية فمن شاء أخذها ومن شاء تركها. إلا إذا كان ذلك أثناء الخطبة بالنسبة للإمام خاصة فقد استحب بعض أهل العلم الاعتماد على العصا أو نحوها. وذلك لما رواه أبوداود أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب الجمعة متوكئاً على قوس أو عصا
والله تعالي اعلم