Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
تنخواہ لینے کا ملازم حقدار ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ملازم تھا، نوکری کی عمر پوری ہونے کی وجہ سے رٹائر ہوگیا، لیکن اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو آنے میں ۷/ مہینہ گزز گئے، اس دوران وہ ڈیوٹی کرتا رہا۔ لیکن دوسرے ملازم کی تقرری کے بعد ان مہینوں کی تنخواہ اسی دوسرے ملازم کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگئی۔ اب رٹائر ملازم نے اس پر دعویٰ کردیا کہ ان مہینوں کی تنخواہ پر میرا حق ہے کیونکہ میں ڈیوٹی کرتا رہا؛ جب کہ نیا ملازم کہتا ہے کہ آپ نوکری سے برخاست ہوچکے تھے، اس تنخواہ پر آپ کا حق نہیں بنتا۔ اب سوال یہ ہے کہ درمیان میں گذشتہ مہینوں کی تنخواہ جو کہ خزانہ میں جمع تھی وہ نئے ملازم کے اس کی جگہ پر متعین ہوتے ہی اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگئی۔ تو اس تنخواہ پر کس کا حق ہے؟ جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبا اللہ التوفیق : ملازمت کو شرعی اصطلاح میں اجارہ کہتے ہیں ، جب تک کوئی شخص سپرد کی ہوئی ذمہ داری ادا کرنے پر قادر ہو اور ملازم اور ملازمت پر رکھنے والا دونوں باہم اس عقد پر راضی ہوں تو عمر کے کم یازیادہ ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں آتا اس ملازمت کو جاری رکھنا درست ہے، ریٹائرڈ ہونا یا کرنا شرعی فرض نہیں ہے، اگر اس عمر کو پہنچ کر کام کرنے کی سکت ہو تو کام کر کے پوری تنخواہ لینے کا ملازم حقدار ہے، اور اگر کام اچھی طرح انجام دینے کی سکت نہ ہو تو اپنی عدم قدرت ظاہر کر دے
لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے جتنے دن کام کیا ہے وہ اتنے دنوں کی تنخواہ کا حقدار ہے
اور رہا مسئلہ دوسرے شخص کا ڈیوٹی انجام دئے بغیر تنخواہ وصول کرنا شرعا ناجائز اور حرام ہے.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 70)
وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل
قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة
تفسير القرطبي (19/ 250) وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (1) الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذا كالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (3)