Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
کیا وطن سے محبت ایمان کا جز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سوال: جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر لوگ ان جملوں کو احادیث بتا کر شیئر کرتے ہیں۔ کیا یہ واقعی احادیث ہیں۔
اگر ہیں تو احادیث کا نمبر بتا دیجئے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: حب الوطن من الإیمان” یعنی وطن سے محبت ایمان کا جز ہے، اس قسم کی بات عوام الناس میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر مشہور ہے، جب کہ مذکورہ الفاظ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں، اس لیے کہ محدثین نے اس روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے،جیساکہ “موضوعات الصغاني” میں ہے
١
- حبُّ الوطنِ منَ الإيمانِ. (موضوعات الصغاني.الصفحة أو الرقم: 53) موضوع المقاصد الحسنة میں ہے: ٢- حبِّ الوطنِ منَ الإيمانِ. ( المقاصد الحسنة للسخاوي، الصفحة أو الرقم: 218) قال السخاوي : لم أقف عليه.
الدرر المنتثرة میں ہے: ٣- حبُّ الوطنِ من الإيمانِ. ( الدرر المنتثرة للسيوطي، الصفحة أو الرقم: 65) قال السيوطي : لم أقف عليه
الأسرار المعروفة میں ہے: ٤- حبُّ الوطنِ مِنَ الإيمانِ. ( الأسرار المرفوعة لملا علي القاري، الصفحة أو الرقم: 189) قال علي القاري: قيل: لا أصل له أو بأصله موضوع
البتہ محدثین میں سے علامہ سخاوی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں، لیکن اس کا معنی درست ہے
وقال في المقاصد: لم أقف عليه، ومعناه صحيح
جب کہ دیگر محدثین نے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا اور ایمان اور وطن کی محبت کے تلازم کا انکار کیا ہے، اور ایمان کے جز ہونے کا انکار کیا ہے۔
ورد القاري قوله: (ومعناه صحيح) بأنه عجيب، قال: إذ لا تلازم بين حب الوطن وبين الإيمان
پس مذکورہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کو ایمان کا جز قرار دینا اور اس کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں، البتہ بعض دیگر کچھ روایات سے وطن کی محبت کا ممدوح ہونا معلوم ہوتا ہے، تاہم ان روایات میں سے کسی سے بھی محبتِ وطن کا ایمان کا جز ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
١
۔ ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709) ترجمہ: ہجرت کے موقعے پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا
٢
۔ اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600) ترجمہ: ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرمادے
٣
۔ قال الإمام البخاري رحمه الله تعالي في صحيحه: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ المَدِينَةِ، أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا». قَالَ أَبُوعَبْدِاللَّهِ: زَادَ الحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ: حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا ترجمہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام جب سفر سے واپسی پر مدینہ تشریف لاتے تو مدینہ کے راستے یا مکانات نظر آتے ہی آپ علیہ السلام اپنی سواری کو مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے
وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالي في الفتح: فيه دلالة على فضل المدينة، وعلى مشروعية حب الوطن، والحنين إليه
ترجمہ: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مدینہ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت کے جواز اور اس کی طرف شوق کا بھی پتا چلتا ہے. فقط واللہ اعلم