Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
خطبہ جمعہ اور بیان کے دوران سونا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو خطبہ جمعہ اور بیان کے دوران نیند کی جھپکی آجاتی ہے اور وہ لوگ جو دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے لئے کیا حکم ہے، کیا ان کے لئے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق: جمعہ کے خطبہ کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک ، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم)
جسے جمعہ کے وقت اونگھ آئے تو وہ اپنی جگہ بدل لے ۔ (ترمذی)-
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران گھٹنے کھڑے کر کے رانوں کو پیٹ سے لگا کر ہاتھوں کو باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داؤد)
اور رہا مسئلہ سونے كا تو
اگر آدمی اس طرح سوجائے کہ اس کے اعضا ڈھیلے پڑجائیں اور قوتِ ماسکہ (خروج ریح کو قابو میں رکھنے والی صلاحیت) زائل ہوجائے مثلاً لیٹ کر یا کسی چیز پر ٹیک لگا کر اس طور پر سوئے کہ اگر وہ چیز ہٹا دی جائے تو آدمی گر جائے تو ان صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو شامی زکریا: ۱/۲۷ تا ۲۷۳، احسن الفتاوی: ۲/۲۲، فتاوی محمودیہ: ۵/۶۳)
واضح رہے کہ اس دور میں چونکہ کثرتِ اکل کا عام رواج ہے اور آدمی مقعد کے زمین پر استقرار کے باوجود حدث کردیتا ہے؛ ا س لیے اس دور میں ہر اعتبار سے گہری نیند سے سونے کی صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کا حکم لگا دینا مناسب اور مبنی بر احتیاط ہے۔
قال في فیض الباري وظاہر الروایة فیہ: أن النوم عند تمکن المقعدة لایفسد ، ویفسد عند التجافي ․․․․․ وفي الدر المختار: إن تمکن مقعدہ ونام وإن طال وفي عبارة وإن جلس مستندا فہذا ہو المذہب أما الفتوی فإنہا تبتني علی المصالح واختلاف الزمان والمکان فلا یوسع فیہا في ہذہ الأیام فإنہا أیام یأکل فیہا الناس کثیراً فیحدثون مع تمکن المقعدة ․ (فیض الباری)
واللہ تعالیٰ اعلم