Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
سسر کا بہو کو شہوت کے ساتھ چھونا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: اگر سسر اپنی بہو کو شہوت کے ساتھ چھو لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :سسر اپنی بہو کو شہوت کے ساتھ چھولے بیٹے پر اس کی بیوی حرام ہوجاتی ہے۔
حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ درمیان میں کوئی حائل نہ ہو اگرکوئی حائل ہوا جس سے جسم کی گرمائش محسوس نہ ہو تو تو حرمت واقع نہ ہو گی اسی طرح شہوت کس کو کہا جائیگا اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ چھونے والے کی تندرستی اگر ایسی ہے کہ شہوت کے وقت اس کا آلہ منتشر ہوتا ہےتو چھونے کے وقت انتشار اگر ہوا ہے تو اس کو شہوت کہا جائیگا اور اگر انتشار نہیں ہوا تو شہوت نہ کہا جائیگا اور اگر تندرستی ایسی نہیں ہے تو اگر دل کو ایسی حرکت ہوئی کہ طبیعت مشوش ہوگئی تو شہوت کہیں گے ورنہ نہیں۔ اس کے بعد زبانی متارکت یا طلاق دینا ضروری ہوگا، عدت گذارنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ واللہ اعلم
قال في رد المحتار (کتاب النکاح ۴:۱۱۲ ط: مکتبة زکریا دیبوند): وفي البقالي: إذا أنکر الشہوة في المس یصدق إلا أن یقوم إلیہا منتشرا فیعانقہا لقریة کذبہ أو یأخذ ثدیہا أو یرکب معہا أو یمسہا علی الفرج․․․ اھ وفي الرد: ولم یذکر المس، وقدمنا عن الذخیرة أن الأصل فیہ عدم الشہوة مثل النظر فیصدق إذا أنکر الشہوة إلا أن یقوم إلیہا منتشرا أي: لأن الانتشار دلل الشہوة وکذا إذا کان الشمس علی الفرج کما مر عن الحدادي لأنہ دلیل الشہوة غالبا اھ․
واضح رہے کہ حرمت مصاہرت کا مسئلہ انتہائی نازک ہے اس لیے اگر سسر کے بہو کو چھونے کے متعلق کوئی واقعہ پیش آئے تو علاقہ کے معتبر ومستند مفتیان کرام سے رجوع کرکے صحیح صورت حال ان کے سامنے رکھی جائے اور متعلق افراد کے بیانات بھی، پھر وہ حضرات جو حکم شرعی بتائیں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
مستفاد: دارالافتاء دار اللعلوم ديوبند و جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن