Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نوح علیہ السلام كے متعلق ايك واقعه كي تحقيق

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
سوال: حضرت مجھے ایک واقعہ کے تعلق سے دریافت کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ تبلیغی حضرات اپنے بیانات میں کہتے ہیں كه حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم پتھروں سے اس طرح مارتےتھے کہ وہ پتھروں میں ڈوب جاتےتھے یہاں تک کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لاتے ان پتھروں کو ہٹاتے اور زخموں کو اپنے پروں سے ملتے حضرت نوح ع کہتے کہ کل کے لۓ میرا کیا کام ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ آج آپ نے جو کام کیا ہے وہی کام کل بھی کرنی ہے یعنی قوم کو ایک اللہ کی طرف بلانا ؟
کیا یہ وقعہ صحیح ہے اگر صحیح ہے تو براۓ مہربانی اس کا حوالہ دیجیۓ
اگر واقعہ کی سند ہی نہیں تو یہ واقعہ کیسے مشہور ہوا بتائیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور واقعہ بے اصل اور من گھڑت ہے، کسی بھی معتبر تفسیر و کتب تاریخ میں یہ واقعہ موجود نہیں ہے، جبکہ نوح علیہ السلام کی قوم کا انہیں سخت تکلیف دینے والے واقعات معتبر کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں
محمد بن اسحاق نے عبید بن عمیر لیثی کی روایت سے لکھا ہے کہ قوم نوح والے حضرت نوح کو پکڑ کر ‘ پچھاڑ کر اتنا گلا گھونٹتے تھے کہ آپ بیہوش ہوجاتے تھے۔ جب آپ کو ہوش آتا تو دعا کرتے : الٰہی ! میری قوم کو معاف کر دے، وہ نادان ہیں۔ (مظہری)
اسحاق بن نشر وابن عساکر رحمہم اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نوح علیہ السلام کو مارا جاتا تھا پھر ان کو اون میں لپیٹ کر ان کے گھر میں ڈال دیا جاتا تھا یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مرگئے ہیں پھر وہ گھر سے نکلتے اور ان کو (اللہ کے دین کی طرف) بلاتے یہاں تک یہ جب اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہوگئے ایک آدمی ان کے پاس اپنے بیٹے اس بوڑھے کو دیکھ یہ تجھ کو دھوکہ نہ دے لڑکے نے کہا اے میرے باپ یہ عصا مجھے دیجئے پھر اس نے عصا کو اٹھایا پھر اس نے کہا مجھے زمین پر بٹھا دے پس اس نے بوڑھے کو زمین پر بٹھایا اور خود آپ کی طرف چل پڑا اور آپ کو ڈنڈا دے مارا اور آپ کے سر پر گہرا زخم لگا دیا جس سے خون بہنے لگا۔ نوح علیہ السلام نے عرض کیا کا اے میرے رب آپ نے دیکھ لیا کہ تیرے بندے میرے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ اگر تجھے اپنے بندوں کی کوئی ضرورت ہے تو پھر ان کو ہدایت عطاء فرما اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور بات ہے تو مجھے صبر عطا فرما یہاں تک کہ آپ فیصلہ فرمائیں اور آپ تمام فیصلہ کرنے والوں میں بہترین فیصلہ فرمانے والے ہیں۔
امام ابن ابی شیبہ احمد نے زھد میں، ابو نعیم اور ابن عساکر نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ نوح علیہ السلام کو ان کی قوم اتنا مارتی تھی کہ وہ بیہوش ہوجاتے۔ پھر جب افاقہ ہوتا تو فرماتے، اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ اپنا چہرہ مبارک سے خون کو پونچھ رہے تھے اور انبیاء میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔
لہٰذا سوال نامہ میں مذکور واقعہ بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے ۔
عن مجاهد قال : كانوا يضربون نوحا حتى يغشى عليه، فإذا أفاق، قال: رب اغفر لقومي، فإنهم لا يعلمون … عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال إن كان نوحا ليضرب حتى يغشى عليه، ثم يفيق فيقول اهد قومي فإنهم لا يعلمون. وقال شقيق: قال عبد اللہ: لقد رأيت النبي (صلى اللہ عليه وسلم) وهو يمسح الدم عن وجهه، وهو يحكي نبيا من الأنبياء، وهو يقول: اللهم اهد قومي، فإنهم لا يعلمون…عن الضحاك عن ابن عباس أنه قال: إن نوحا كان يضرب ثم يلف في لبد، فيلقى في بيته يرون أنه قد مات، ثم يخرج فيدعوهم حتى إذا ايس من إيمان قومه ، جاءه رجل ومعه ابنه، وهو يتوكأ على عصا، فقال: يا بني انظر هذا الشيخ لا يغرنك قال: يا أبت أمكني من العصا، فأخذ العصا، ثم قال: ضعني في الأرض فوضعه فمشى إليه بالعصا، فضربه فشجه شجة موضحة، وسالت الدماء، قال نوح: رب قد ترى ما يفعل بي عبادك، فإن يك لك في عبادك حاجة، فاهدهم، وإن يك غير ذلك فصيرني إلى أن تحكم وأنت خير الحاكمين. الخ.(تاريخ دمشق، ۶۲؍۲۴۸- ۲۴۷، حرف النون ، نوح بن لمك بن متوشلخ بن إدريس بن يرد ، ت: عمرو بن غرامة العمروي، فتح الباری :۱۲؍۲۸۲،تحت رقم الحدیث:۶۹۲۹)
قال عبد اللہ: كأني أنظر إلى النبي صلى اللہ عليه وسلم يحكي نبيا من الأنبياء، ضربه قومه فأدموه، فهو يمسح الدم عن وجهه، ويقول: «رب اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون.(صحیح البخاري:۲؍۱۰۲۴،رقم الحدیث:۶۹۲۹،کتاب استتابۃ المعاندین والمرتدین)فقط
واللہ تعالٰی اعلم