Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
رضاعی بہن کي بہنوں سے نکاح

السلام عليكم ورحمة الله وبركاتة
انا طالب العلم لمدرسة هداية الاسلام وقف في غجرات
ارجوك ان تكون من الخير والعافية
المسئلة هذه أن خمس بنات لعمي وواحدة منهم اختي من الرضاعة أيضاً هل يمكنني ان انكح اختا أخرى لها يعني اختا لاختي الرضاعة التي كبيرة منها ومنها أنا أيضا لدي حب من القلب؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں گجرات مدرسہ ہدایت الاسلام وقف کا ایک طالب علم ہوں
امید کرتا ہوں آپ خیرو عافیت سے ہوں گے
مسئلہ یہ تھا کہ میرے چچا کی پانچ لڑکیاں ہیں جس میں سے ایک میری رضاعی بہن بھی ہے تو کیا میں اس کی دوسری بہن جو اس سے بڑی ہے اور جس سے مجھے دلی محبت بھی ہے اس سے نکاح کر سکتا ہوں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: لڑکے کے لیے اپنی رضاعی بہن کی بہن کے ساتھ نکاح اس صورت میں جائز ہے جب کہ وہ نکاح کرنے والے کے رضاعی بھائی یا بہن نہ ہوں، مثلاً اگر زید کی بہن نے بکر کی ماں کا دودھ پیا ہے تو زید کی بہن بکر کی ماں کی تمام اولاد پر حرام ہو گئی ہے، یعنی زید کی بہن کا بکر اور اس کے تمام سگے اور ماں شریک بھائیوں سے رضاعت کا رشتہ ثابت ہوگیا ہے اور اب ان سے نکاح حرام ہے، لیکن زید کا بکر اور اس کی بہنوں سے کوئی رشتہ نہیں، اس لیے زید کا بکر کی کسی بھی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، نیز بکر اور اس کے بہن بھائیوں کے لیے زید کی بہن کے علاوہ دیگر بہن بھائیوں سے نکاح کرنا جائز ہوگا، بشرطیکہ ان میں سے کسی نے بکر کی ماں کا دودھ نہ پیا ہو۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 31)
“(و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسباً، ومصاهرة (رضاعاً) إلا ما استثني في بابه”
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 213)
“(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان، واستثنى بعضهم إحدى وعشرين صورةً”
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 217)
“(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر”. فقط والله أعلم
فقط والله تعالي اعلم
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن