Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
طلاق معلق

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال: کیافرماتے ہیں علماء کرام شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی کو تقر یہا آ ٹھ سال قبل دوطلاق دی تھیں ، پھر بھی کچھ دنوں قبل زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب تم تنہا گھر سے باہرنہیں جاؤ گی ،اگر باہر جانا ہے تو کسی کو ساتھ لے کر جاؤ گی ،اگر تہا گئیں تو تیسر اورڈ ( طلاق) کا جانا جاۓ گا ، جب کہ بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نے کہا تھا کہ تم اب تنہا گھر سے نہیں نکلو گی ،اگر تہانکلی تو تیسر اور ڈ جانا جاۓ گا۔ اس کے بعد بیوی کو ایک روز شدید درد ہوا تو پتلیم صاحب کے دواخانہ پر جانے کے لئے کسی محرم کا انتظار کر رہی تھی ،ٹھیک اسی وقت شو ہر گھر پر کسی کام کے لئے آۓ تو بیوی نے شوہر سے ساتھ چلنے کے لئے کہا، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا، چونکہ حکیم صاحب کے دواخانہ سے اٹھنے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے ۔ تو بیوی کے بار بار اصرار کرنے پر شوہر بولے ٹھیک ہے چلو۔ اس کے بعد دونوں ساتھ ساتھ گھر سے باہر نکلے لیکن شوہر باہر کھڑی سائیکل کواندر کھڑی کرنے کے ارادے سے خودتو رک گئے ، بیوی کور کنے کے لئے نہیں کہا ، بیوی می سوچ کر چلتی رہی کہ شوہر پیچھے ہوں گے، چونکہ دواخانہ کا راستہ گھر سے ۲۵۰ قدم پر ہے لگ بھگ چارمنٹ کا راستہ ہے، تو جیسے ہی بیوی دواخانہ پر پہو نچ کر بیٹھ ہی رہی تھی شوہر بھی پیچھے پیچھے آگئے ۔ پھر دوائی لے کر دونوں ساتھ ساتھ گھر واپس آ گئے تو صورت مذکورہ میں شرعی حکم کیا ہوگا ، کیا زید کی بیوی پر تیسری طلاق واقع ہوئی یانہیں؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی ۔
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وباللہ التوفیق: حسب تحریر سوال جب کہ دونوں میاں بیوی گھر سے ایک ساتھ نکلے تو تیسری طلاق کے وقوع کی شرط متحقق نہیں ہوئی۔ بریں بنا تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی اور ان دونوں میں ازدواجی رشتہ برقرار ہے۔
المستفاد: واذا اضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط الخ (الفتاوی الہندیہ ۱/۰۲۴) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری
الجواب صحیح: مفتی شبیر احمد صاحب, مفتی احسان صاحب
دار الافتاء مدرسه شاهي مرادآباد