Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
مقتدی كا امام صاحب کو یاد دلانا

سوال: اگر امام صاحب نے چار رکعت نماز پڑهائی تو سلام پھیر کر کسی مقتدی نے کہا کہ امام صاحب ایک سجدہ رہ گیا اب امام صاحب کو کیا کرنا ہے پہلے سلام پھیرنا ہے یا پہلے التحیات پڑھے گا پھر اسکے بعد سجدہ کرےگا, اور اس مقتدي كي نماز كا حكم كيا هوگا؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: مسؤلہ صورت میں جس مقتدی نے امام صاحب کو یاد دلانے کے لئے یہ کہا ”ایک سجدہ رہ گیا“ تو اس کی نماز بلاشبہ فاسد ہوگئی، اب رہ گئی امام صاحب کی نماز تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر مذکورہ مقتدی کے الفاظ سن کر سوچھے سمجھے بغیر امام صاحب نے سجدہ کیا تو ان کی نماز فاسد ہوگئی اور اگر مقتدی کے یاد دلانے پر امام صاحب کو خود یاد آگیا کہ واقعۃً ایک سجدہ چھوٹ گیا، اب ان کو چاہئے کہ اولاً چھوٹا ہوا سجدہ کریں، اس کے بعد فوراً قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھیں، اور اخیر میں حسب ضابطہ سجدہ سہو کریں اس طرح ان کی نماز صحیح اور مکمل ہوجائے گی۔
يفسدها التكلم هو النطق بحرفين أو حرف مفهم. (در مختار زكريا 2/370)
لَوْ امْتَثَلَ أَمْرَ غَيْرِهِ فَقِيلَ لَهُ تَقَدَّمْ فَتَقَدَّمَ أَوْ دَخَلَ فُرْجَةَ الصَّفِّ أَحَدٌ فَوَسَّعَ لَهُ فَسَدَتْ ، بَلْ يَمْكُثُ سَاعَةً ثُمَّ يَتَقَدَّمُ بِرَأْيِهِ. (در مختار زكريا 2/381)
فقط والله تعالي اعلم