Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نيت ميں امام کا متعین کرنا

سوال: مفتی صاحب کیااگر کسی شخص نےکسی امام صاحب کو متعین کیا کہ میں زید کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں جب نماز سے فارغ ہو ئے تو وہ بکر تھا کیا اس شخص کی اقتدا درست ہوئ یانہیں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: مقتدی پر امام کا متعین کرنا لازم نہیں۔ بل کہ افضل اس کا ترک کردینا ہے۔
اگر امام کے اقتدا کی نیت کی اور یہ اس کو خیال نہیں کہ وہ زید ہے یا عمر و ہے اس کویہ گمان ہے کہ وہ زید ہے اور وہ عمر تھا تو اقتدا صحیح ہوجائے گی۔
اور اگر یہ نیت کی میں زید کی اقتدا کرتا ہوں اور امام عمرو تھا تو جائز نہیں۔ یعنی اس صورت میں اقتدا درست نہیں کہ امام کو اس کے نام سے معین کیا پھر کوئی غیر نکلا یعنی اقتدا میں امام موجود کی نیت نہ کی بلکہ اقتداء زید کی نیت کی تو اب اگر وہ عمرو ہوگا تو اقتدا درست نہ ہوگی کیونکہ نیت کا اعتبار ہے اور اس نے امام حاضر کے غیر کی اقتدا کی نیت کی اس لئے صحیح نہ ہوئی۔ (فتاوی ہندیہ ۱/۲۷۸)
في حاشية الطحاوي على المراقي: (ولا يلزم المقتدي تعيين الإمام، بل الأفضل عدمه؛ لأنه لو عينه فبان خلافه فسدت صلاته. (حاشية الطحاوي (2/286).
وقال ابن نجيم: (وأفاد أن تعيين الإمام ليس بشرط في صحة الاقتداء، فلو نوى الاقتداء بالإمام وهو يظن أنه زيد فإذا هو عمرو يصح، إلا إذا نوى الاقتداء بزيد فإذا هو عمرو فإنه لا يصح؛ لأن العبرة بما نوى، ولو كان يرى شخصه فنوى الاقتداء بهذا الإمام الذي هو زيد فإذا هو خلافه جاز؛ لأنه عرفه بالإشارة فلغت التسمية) (البحر الرائق (1/298)
وقال في بدائع الصنائع: (ولو نوى صلاة الإمام والجمعة فإذا هي الظهر جازت صلاته؛ لأنه لما نوى صلاة الإمام فقد تحقق البناء، فلا يعتبر ما زاد عليه بعد ذلك، كمن نوى الاقتداء بهذا الإمام وعنده أنه زيد فإذا هو عمرو كان اقتداؤه صحيحاً، بخلاف ما إذا نوى الاقتداء بزيد والإمام عمرو)(بدائع الصنائع (1/329) فقط والله تعالي اعلم