Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
ایسا جانور جسکے پیدائشی سینگ یا دانت یا دم وغيره نه هو اس كي قرباني

سوال: مفتی صاحب کیاکوئی ایسا جانور جسکے پیدائشی سینگ یا دانت یا دم یا آ نکھوں کی لائٹ یا پیدائشی نقص ہو کیااس کی قربانی درست ہے یانہیں؟ اور خصی جانور سے کون سا جانور مراد ہے مینڈھا یا اور کو ئی جانور مراد ہے اور اسکی عمر کتنی ہونے چاہئے اور کیا اسی کے بارے میں ہے کہ ،6 7 مہینہ کا ہونا چاہئے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں ، اسی طرح ا س کے سینگ جڑ سے اکھڑے نہ ہوں اس کی قربانی درست ہے۔
ویجوز ان یضحی بالجماء۔ وھی التی لا قرن لھا۔ لان القرن لا یتعلق بہ مقصود وکذا ما کسرت القرن ‘‘(ھدایہ ص ۴۳۲ ج۴کتاب الا ضحیۃ= شامی ص ۲۸۲ج۵ایضاً)
قربانی صحیح ہونے کی شرط جانور کی عمر کا پورا ہونا ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں، لہذا عمر پوری ہونے کی صورت میں اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں اور جانور چارا کھا سکتا ہو تو قربانی صحیح ہوگی؛
اور جس کے پیدائشی دونوں کان یا دم نہ ہو یا ایک کان ہو ۔ اس کی قربانی درست نہیں ۔
’’ ہدایہ ‘‘ میں ہے ۔
والسکاء وھی التی لااذن لھا ’’ حلقۃ‘‘ لا تجوز (ہدایہ ص ۴۳۲ ج۴ ایضاً)(وشامی ص ۲۸۳ ج۵)
جو جانور اندھا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی بینائی تہائی سے زیادہ جاتی رہے تو اس کی قربانی جائز نہیں
اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ عیب جو غیر معمولی ہو اور جانور کی منفعت کو ختم کردے ، پیدائشی ہو یا قربانی سے پہلے پیدا ہوا ہو قربانی درست ہونے میں مانع ہے۔
“وَمِنْ الْمَشَايِخِ مَنْ يَذْكُرُ لِهَذَا الْفَصْلِ أَصْلًا وَيَقُولُ : كُلُّ عَيْبٍ يُزِيلُ الْمَنْفَعَةَ عَلَى الْكَمَالِ أَوْ الْجَمَالِ عَلَى الْكَمَالِ يَمْنَعُ الْأُضْحِيَّةَ”. فقط واللہ اعلم
خصی سے مراد وہ جانور ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کر دی جاتی ہے،
بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے، تو اس کی قربانی درست ہے،
وصح الجذع ذو سنة أشہر من الضأن إن کان بحیث لو خلط بالثنایا لا یمکن التمییز من بعد
الفتاوى الهندية – (42 / 294)