Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
مانع حمل اشیاء کا استعمال

سوال: مفتی صاحب ا گر کسی عورت نے ایسی دوائی کھائی کہ اس دوائی سے بچہ نہیں ہوتا تو کیا گناه ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وباالله التوفيق: بغیر کسی مجبوری کے مانع حمل اشیاء کا استعمال مقصد شرع وشارع کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے؛ البتہ اگر عورت کی صحت خراب ہو، تکالیف حمل برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو، یا استقرار حمل میں ایسی تکالیف کا اندیشہ ہو جو ناقابل تحمل وبرداشت ہو، پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا خطرہ ہو تو ان صورتوں میں عارضی طور پر قوت وصحت کی بحالی کے لیے مانع حمل دوا استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی؛ البتہ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس کی وجہ سے دائمی طور پر قوت تولید ختم ہوجائے ناجائز اور حرام ہوگا؛ اس لیے اگر يه عوارض نہیں ہیں تو آپ کے لیے بلاوجہ عارضی طور پر منع حمل کا استعمال بھی مناسب نہیں اور اگر یہ نیت ہو کہ بچہ ہونے کی صورت میں ان کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا تو اس نیت سے استقرار حمل نہ ہونے دینا جائز نہیں قرآن شریف میں اس کی مذمت آئی ہے۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ ”تم اپنے بچوں کو فقر وفاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی“۔
واللہ تعالیٰ اعلم