Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نکاح کے لئے گواہ کتنے اور کون لوگ ہوں اور اجازت کا طریقہ کیا ہو

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب نکاح میں گواہ کون بن سکتا ہے اور کون رشتہ دار گواہ نہیں بن سکتا؟
دوسرا سوال یہ کہ جس طرح وکیل کے لیے ضروری ہے کہ لڑکی سے دو گواہ کے سامنے اس کے نکاح کی اجازت حاصل کرے کیا اسی طرح ولی کے لیے بھی ضروری ہے کہ لڑکی سے گواہ کے سامنے اجازت لے؟
تیسرا سوال باپ کی غیر موجودگی میں لڑکی کا ولی کون کون بن سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق: الف۔۔ نکاح میں کوئی بھی آزاد عاقل بالغ مکلف مسلمان گواہ بن سکتا ہے، خواہ وہ رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار۔
ب۔۔ مجلس اجازت جہاں پر لڑکی سے اجازت لی جاتی ہے، وہاں پر اجازت کے وقت گواہوں کا ہونا لازم نہیں ہاں البتہ احتیاط کے طور پر گواہوں کو لے جایا جاتا ہے تاکہ بعد میں لڑکی اجازت کا انکار نہ کرسکے۔
ج۔۔ لڑکی اور لڑکے کا ولی سب سے پہلے اسکا باپ ہے، اگر باپ نا ہو تو دادا، وہ نہ ہوتو پر دادا، اگر یہ لوگ کوئی نہ ہو تو سگا بھائی، سگا بھائی نہ ہو تو سوتیلا بھائی یعنی باپ شریک بھائی، پھر بھتیجا پھر بھتیجے کا لڑکا، پھر بھتیجے کا پوتا، یہ لوگ نہ ہوں تو سگا چچا، پھر سوتیلا چچا یعنی باپ کا سوتیلا بھائی، پھر سگے چچا کا لڑکا پھر اسکا پوتا، پھر سوتیلے چچا کا لڑکا، پھر اس کا پوتا، یہ کوئی نہ ہو تو باپ کا چچا ولی ہے، پھر اسکی اولاد، اگر باپ کا چچا اور اسکے لڑکے پوتے پر پوتے کوئی نہ ہو تو دادا کا چچا۔ پھر اسکے لڑ کے پوتے پر پوتے وغیرہ، یہ کوئی نہ ہو تب ماں ولی ہے، پھر دادی، پھر نانی پھر نانا پھر حقیقی بہن پھر سوتیلی بہن جو باپ شریک ہو پھر جو بھائی بہن ماں شریک ہوں، پھر پھوپھی پھر ماموں پھر خالہ وغیرہ۔ تفصیل کیلئے دیکھئے۔ (بہشتی زیور – / در مختار، جلد58/3) فقط واللہ اعلم