Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نا محرم سے بات چيت

سوال: (1) مفتی صاحب کیا کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کو سلام کرسکتی ہے چاہے وہ چھوٹی ہو یابڑی ہو اور ہاتھ ملاسکتی ہے
(2) اور کیا کوئی عورت کسی غیر محرم مرد سے فون پرباتیں کرسکتی ہے
(3) اور کیاکوئی ایسی عورت کسی غیر محرم مرد سے باتیں کر سکتی ہے جنکی ابھی بات چل رہي ہو نکاح کے متعلق ابھی نکاح نہ يوا ہو
(4) اور کیا کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے سرپر ہاتھ رکھ کر پھونک دے سکتاہے یانہیں کیونکہ وہ مجبور کر تی ہے کہ آ پ ہمارے بھائی ہو
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق:(۱) جائز نہیں، البتہ اگر کوئی ضروری بات کرنا ہو اور سلام کرلیں تو گنجائش ہے۔ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا (ہاتھ ملانا) شرعاً جائز نہیں ہے، ہاں اپنی محرم خواتین سے مصافحہ کرسکتا ہے، لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہاتھ نہ ملائے۔
(2) غیر محرم کا آپس میں بغیر کسی ضرورت کے بات چیت کرنا حرام ہے۔ چاہے کوئی بھی صورت ہو، چیٹ یا میسج کے ذریعے سے ہو یا کال کے ذریعے یا آمنے سامنے ہو، کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں ہے۔ بلکہ حرام ہے۔
(3) منگیتر بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہوتی ہے، اور نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے، اور میسج موبائل وغیرہ پر تعلقات رکھنے کا بھی یہی حکم ہے،
(4) ہاتھ رکھنے والا بزرگ ہو اور سامنے لڑکی غیر محرم بالغہ یا قریب البلوغ ہو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس عمل سے اجتناب کیا جائے، بلکہ ہاتھ رکھے بغیر ہی خیر و برکت کی دعا دے دی جائے۔
فقط والله اعلم