Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
اصحابی کالنجوم حدیث کی تحقیق

سوال: اصحابی کالنجوم حدیث کی تحقیق؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبا الله التوفيق: أصحابي كالنُّجومِ بأيِّهمُ اقتديتُمُ اهتديتُم۔
ترجمہ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ،ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
پہلی بات: مذکورہ بالاحدیث شریف کو بعض محدثین رحمہم اللہ جیسے ابن جریر وغیرہ نے موضوع (من گھڑت ) قرار دیا ہے اور بعض محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن یہ روایت متعدد طرق سے الفاظ کے اختلاف لیکن معانی کی یکسانیت کے ساتھ درج ذیل کتب میں منقول ہے:
جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر : 895،
الاحکام لابن حزم : 6 / 244،
الکفایۃ فی علم الروایۃ للخطیب : 48، المدخل للبیہقی : 152،مسند فردوس لدیلمی : 4 / 75 ، مسنددیلمی : 2 / 190
تاریخ ابن عساکر : 19 / 383
دوسری بات: یہ حدیث حسن(مقبول) سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، وَأَبُو الْفَضْلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ” ، وَقَال : “أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ” . (الشفا بأحوال المصطفى للقاضي عياض » الْقَسَمَ الثاني : فِيمَا يجب عَلَى الأنام من حقوقه … » الْبَابِ الثالث : فِي تعظيم أمره ووجوب توقيره وبره …، رقم الحديث: 61, الحكم: إسناده حسن)
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا اور کہا کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤگے۔
اس حدیث کے رجال تمام کے تمام ثقہ ہیں
تیسری بات: مسلم شریف میں اس معنی کے قریب قریب ایک اور روایت وارد ہوئی ہے۔
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وإسحق بن إبراهيم وعبد الله بن عمر بن أبان كلهم عن حسين قال أبو بكر حدثنا حسين بن علي الجعفيعن مجمع بن يحيى عن سعيد بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبيه قال صلينا المغرب مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قلنا لو جلسنا حتى نصلي معه العشاء قال فجلسنا فخرج علينا فقال ما زلتم هاهنا قلنا يا رسول الله صلينا معك المغرب ثم قلنا نجلس حتى نصلي معك العشاء قال أحسنتم أو أصبتم قال فرفع رأسه إلى السماء وكان كثيرا مما يرفع رأسه إلى السماء فقال النجوم أمنة للسماء فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبت أتى أصحابي ما يوعدون وأصحابي أمنة لأمتي فاذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون۔ (صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ:2/308، ط، قدیمی کتب خانہ)
ترجمہ: سیدنا ابوبردہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا، جس کا وعدہ ہے۔
خلاصہ کلام:
ضعیف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ موضوع(من گھڑت) ہو۔ علماء کرام اور تمام امت نے اسے قبول کیا ہے اور ایسی حدیث “تلقی بالقبول” کہلاتی ہے۔لہذا اس روایت کو بالکل موضوع قرار دینا درست نہیں ہے اور اس روایت کا بیان کرنا بھی صحیح ہے، البتہ مذکورہ بالا الفاظ میں بیان کر