Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
صاحب نصاب کے پاس نقد روپیہ نہ هو تو قربانی کیسے کرے؟

سوال: اگر پيسه نه هو تو تو قرباني كيسے كريں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: واضح رہے کہ جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، ذمہ میں واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد ضرورت اور استعمال سےزائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو (خواہ ضرورت سے زائد مال نقدی ہو یا سونا چاندی ہو یا کسی اور شکل میں ہو، اسی طرح مالِ تجارت نہ بھی ہو) تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے؛ لہذا بصورتِ مسئولہ اگر کسی شخص کے پاس ضرورت اور استعمال سے زائد کپڑے یا گھڑیاں وغیرہ ہیں جن کی مالیت نصاب کے برابر ہے تو اس شخص پر بھی قربانی واجب ہے ، قربانی کے وجوب کے لیے نقد پیسوں کا موجود ہونا ضروری نہیں، بلکہ صاحب نصاب ہونا ضروری ہے۔
لهذا جس شخص پر قربانی واجب ہو، مگر اس کے پاس نقدی نہ ہو تو اسے سونا چاندی یا قابل فروخت چیز فروخت کرکے یا قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہوگا۔ اور قربانی نہ کرنے اور ایام نحر گزر جانے کی صورت میں کم از کم ایک حصہ کی رقم صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔
الفتاوى الهندية (1/ 191)
“وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان”. فقط والله أعلم