Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نمازي كے آگے سے گزرنا

سوال: نمازي كے آگے سے گزرناكيسا هے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: نمازپڑھنے والے کے آگے سے چھوٹی مسجدیا چھوٹے مکان میں گزرنا ناجائزہے جب تک کہ اس کے آگے کوئی آڑ نہ ہو، اوراگرنمازی کے آگے سترہ(کم از کم ایک گز شرعی کے برابراونچی اور کم از کم ایک انگلی کے برابرموٹی کوئی چیز) ہوتو اس آڑ کے آگے سے گزرنا جائزہے، سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرنا جائز نہیں۔ اور بڑی مسجد (کم ازکم چالیس شرعی گز یا اس سے بڑی مسجد)یا بڑامکان یا میدان ہو تواتنے آگے سے گزرناجائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدہ کے جگہ پر رکھے تو گزرنے والااسے نظر نہ آئے جس کا اندازہ نمازی کی جائے قیام سے تین صف آگے تک کیا گیا ہے یہ اندازہ کھلے میدان یا بڑی جگہ کے بارے میں ہے۔چھوٹی مسجدیا محدود جگہ کے لیے نہیں ہے،لہذا چھوٹی مسجد یا محدود جگہ میں اتنی فاصلے سے بھی گزرنادرست نہیں ، بلکہ نمازی کی نماز کے ختم ہونے کاانتظارکیاجائے، اس لیے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے پر حدیث شریف میں شدید وعیدیں آئی ہیں، چناں چہ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے:
” حضرت ابوجہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر خیال کرے۔ (اس حدیث کے ایک راوی ) حضرت ابونضر فرماتے ہیں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال کہا گیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ”۔
مذکورہ حدیث کی تشریح میں صاحبِ مظاہرحق علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
” حضرت امام طحاوی نے ” مشکل الآثار” میں فرمایا ہے کہ یہاں چالیس سال مراد ہے نہ کہ چایس مہینے یا چالیس دن۔ اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے ثابت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنے بھائی کے آگے سے اس حال میں گزرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے (یعنی نماز پڑھتا ہے)، وہ (اس کا گناہ) جان لے تو اس کے لیے اپنی جگہ پر ایک سو برس تک کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ بہر حال !ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہو جائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا کنتی سخت ہے تو وہ چالیس برس یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق ایک سو برس تک اپنی جگہ پر مستقلاً کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے”۔
الدر المختار مع ردالمحتار: ” (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقاً) …”الخ
قال ابن عابدين رحمه الله: ” (قوله: في بيت) ظاهره ولو كبيراً. وفي القهستاني: وينبغي أن يدخل فيه أي في حكم المسجد الصغير الدار والبيت. (قوله: ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعاً، وقيل: من أربعين، وهو المختار، كما أشار إليه في الجواهر، قهستاني”. (1/634) وفي تقريرات الرافعي:
“(قوله: ظاهره ولو كبيراً الخ) لكن ينبغي تقييده بالصغير، كماتقدم في الإمامة تقييد الدار بالصغيرة حيث لم يجعل قدر الصفين مانعاً من الاقتداء، بخلاف الكبيرة”. (1/83) فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم