Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
اُطْلُبُوْا الْعِلْمَ وَلَوْ کَانَ بِالصِّیْنِ۔ کا حکم

سوال: اُطْلُبُوْا الْعِلْمَ وَلَوْ کَانَ بِالصِّیْنِ۔ کیا یہ عبارت حدیث شریف کی ہے یا نہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وبالله التوفيق: یہ روایت مختلف طرق سے مروی هے بعض ضعیف ہیں اور بعض محدثین نے اس کے موضوع ہونے کی بھی بات کہی ہے؛ لیکن متن مشہور ہے رواة اگرچہ ہیں لہٰذا مختلف طرق سے منقول ہونے کی وجہ سے بے ا صل نہیں کہہ سکتے۔
قال ابن عدي حدثنا محمد بن الحسن بن قتیبة، حدثنا عباس بن إسماعیل حدثنا الحسن بن عطیة الکوفی عن أبی عاتکة عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اطلبوا العلم ولو بالصین فإن طلب العلم فریضة علی کل مسلم (الکامل لابن عدی: ۱/۱۷۸) ورواہ العقیلي عن جعفر بن محمد الزعفرانی عن احمد بن ابی الشریح الرازي عن حماد بن خالد الخیاط عن طریف بن سلیمان اپی عاتکة عن انس۔ قال ابن حبان باطل لا أصل لہ والحسن بن عطیة ضعیف وأبو عاتکة منکر الحدیث․ (کتاب المجروحین: ۱/۳۸۲) وقال السیوطی الحسن روی عنہ البخاری في التاریخ وأبو زرعة، وروی لہ الترمذی وضعفہ الازدی (اللآلي المصنوعہ في الأحادیث الموضوعة ۱/۱۷۵)
واللہ تعالیٰ اعلم