Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
اہل شام پر تباہی

سوال : آج کل ایک روایت بہت تیزی کے ساتھ پھیلائی جارہی ہے خاص کر سوشل میڈیا پر کہ جب اہل شام پر تباہی آئے گی تو کوئی خیر باقی نہیں رہے گی، اور ایک جماعت ایسی ہوگی جس کو اللہ کی مدد حاصل رہے گی، یہ روایت کیسی ہے اور اس کی کیا حیثیت ہے اور اس کا مطلب اور مفہوم کیا ہے ؟ تشفی بخش جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں ؟
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق
سوال میں مذکور روایت احادیث کی مختلف کتابوں مسند احمد، صحیح ابنِ حبان، مصنف ابن ابی شیبہ، معجم کبیر للطبرانی اور جامع ترمذی وغیرہ میں موجود ہے، اور امام ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے، اور اس کا مفہوم ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق یہ ہے کہ جب اہل شام میں بھی فساد و تباہی پھیل جائے گی تو اس وقت شام میں سکونت اختیار کرنے یا اپنے وطن سے ہجرت کرکے ملک شام جانے میں کوئی بھلائی نہیں رہے گی، اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان الفاظ کی بظاہر مراد یہ ہے کہ آخر زمانہ میں اہل شام اللہ کے سچے دین پر قائم ہوں گے اور خیر امت ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گے اور پھر آخر کار ان میں بھی تباہی آجائے گی اور یہ اس وقت ہوگا جب قیامت آئے گی تو اس دنیا میں صرف بدکار لوگ موجود ہوں گے چنانچہ اہل شام کے تباہ ہونے کے ساتھ ہی اس روئے زمین سے خیر کا وجود اٹھ جائے گا جو اس بات کا نتیجہ ہوگا کہ اس وقت اہل خیر میں سے کوئی بھی اس دنیا میں باقی نہیں ہوگا، حدیث کے دوسرے ٹکڑے میں کہا گیا ہے کہ امت مسلمہ میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہونچا سکتے ہیں، اس جماعت سے کونسی جماعت مراد ہے اس سلسلہ میں اختلاف ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی ابن المدینی کی رائے یہ ہے کہ اس جماعت سے مراد ارباب حدیث ہیں یعنی وہ محدثین اور اہل علم جو احادیث کے حفاظ ہیں، حدیثوں کے راوی ہیں، احادیث پر عمل پیرا رہنے والے ہیں، درس وتدریس، تصنیف وتالیف ، تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور علوم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور اس کے سیکھنے سکھانے میں لگے رہنے والے ہیں، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اہل سنت والجماعت ہیں،
حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا أبو داود قال: حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم، لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة، قال محمد بن إسماعيل: قال علي بن المديني: هم أصحاب الحديث: وفي الباب عن عبد الله بن حوالة، وابن عمر، وزيد بن ثابت، وعبد الله بن عمرو وهذا حديث حسن صحيح (جامع ترمذی رقم ٢١٩٢، صحیح ابنِ حبان رقم ٧٣٠٢ مسند احمد المعجم الکبیر للطبرانی رقم ٥٦، مصنف ابن ابی شیبہ رقم ٣٢٤٦٠)
إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم أي للقعود فيها أو التوجه إليها “ولا يزال طائفة من أمتي منصورين” أي غالبين على أعداء الدين. “لا يضرهم من خذلهم” أي ترك نصرتهم ومعاونتهم “حتى تقوم الساعة” أي يقرب قيامها لما سبق من أنها لا تقوم وفي الأرض من يقول: الله. قال ابن المديني : من أكابر المحدثين هم، أي: تلك الطائفة أصحاب الحديث . أي المحدثون من حفاظ الحديث ورواتهم أو العاملون بالسنة المبينة للكتاب، فالمراد بهم أهل السنة والجماعة. (مرقاة المفاتيح ٤٠٥٢/٩ دار الكتب العلميه)
قوله : اذا فسد اہل الشام فلا خیر فیکم یريد – والله اعلم – ان اهل الشام الذين يقومون بامر الله في آخر الزمان فاذا فسدوا و هو حين تقوم القيامة ولم يبق احد يقول لا اله الا الله كما ورد لا تقوم الساعه الا على شرار الناس و لا خير فيكم اذ لم يبق من هو اهل الخير (لمعات التنقيح للشیخ عبد الحق ٨٣٠/٩ دار النوادر) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم