Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
اعتکاف میں غسل کا مسئلہ

سوال : آدمی جب اعتکاف میں بیٹھتا ہے تو اس کو غسل کا مسئلہ بہت زیادہ پیش آتا ہے اس سلسلے میں وضاحت فرمادیں کہ معتکف غسل کہاں کرے اور کیسے کرے تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں؟
باسمہ سبحانہ وتعالی
الجواب وباللہ التوفیق: معتکف کے لیے ایک اہم مسئلہ غسل کا ہے، لہذا اس سلسلے میں یاد رکھیں کہ اگر مسجد شرعی کی حد میں رہتے ہوئے غسل کا ایسا انتظام ہو کہ مسجد غسل کے پانی سے ملوث نہ ہو تو معتکف کے لئے مسجد میں ہر طرح کا غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر مسجد میں غسل کا ایسا انتظام نہ ہو تو واجب غسل کے لئے مسجد سے باہر نکلنا بالاتفاق جائز ہے؛ البتہ غیر واجب غسل مثلاً بدن کی صفائی یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے اگر مسجد سے باہر جائے گا تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ تاہم اگر بول وبراز کی ضرورت کے لئے مسجد سے باہر نکلا اور وہیں جلدی سے بدن پر پانی بہالیا تو اعتکاف میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ آج کل عموماً مساجد میں جو غسل خانے بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ مسجد کی ملکیت میں تو ہوتے ہیں لیکن مسجد شرعی کی حد میں نہیں ہوتے اس لئے واجب غسل کے لئے تو وہاں جا سکتے ہیں لیکن غیر واجب غسل کے لئے وہاں جانا جائز نہیں ہوگا، صاحبینؒ کے نزدیک چونکہ کچھ دیر کے لئے مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتاہے، بریں بنا جو شخص روزانہ غسل کا عادی ہو کہ اسے غسل کے بغیر چین ہی نہ آتا ہو اور گویا غسل اس کی ضرورت طبعی بن گیا ہو یا گرمی بہت زیادہ سخت ہو رہی ہو جس کی وجہ سے بدن اور کپڑوں میں بدبو پیدا ہو رہی ہو تو اس کے لئے صاحبینؒ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، جہاں تک بات ہے جمعہ کے غسل کی تو عام فقہی کتابوں اور فتاویٰ میں تو یہی بات لکھی ہے کہ غیر واجب غسل کے لئے مسجد سے باہر نکلنا معتکف کے لئے درست نہیں ہے، اور غیر واجب غسل میں جمعہ کا غسل مسنون بھی داخل ہے؛ لیکن بعض فقہی عبارتوں سے جمعہ کے غسل کے لئے معتکف کو مسجد سے باہر نکلنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اس لئے ضرورت اور تقاضے کے وقت اس روایت پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ (مستفاد: کتاب المسائل، فتاویٰ عثمانی)
وحرم علیہ الخروج الا لحاجۃ الانسان طبیعیۃ کبول وغائط وغسل لو احتلم ولا یمکنہ الاغتسال فی المسجد (الدر المختار ٢/ ۴۴۴،۴۴۵)
ثم إن أمکنہ الاغتسال فی المسجد من غیر أن یتلوث المسجد فلا بأس بہ وإلا فیخرج ویغتسل ویعود إلی المسجد۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۲۱۳)
فلو أمکنہ من غیر ان یتلوث المسجد فلا بأس بہ بدائع، ای بان کان فیہ برکۃ ماء او موضع معد للطہارۃ او اغتسل فی اناء بحیث لا یصیب المسجد الماء المستعمل۔ قال فی البدائع: فان کان بحیث یتلوث بالماء المستعمل یمنع منہ، لان تنظیف المسجد واجب۔ (رد المحتار زکریا ۳؍۴۳۵، بدائع الصنائع زکریا ۲؍۲۸۷، حاشیۃ الشلبی علی التبیین ۲؍۲۲۹، تاتارخانیۃ ۳؍۴۴۵، طحطاوی ۳۸۴، الفتاوی الہندیۃ ۱؍۲۱۳)
ویخرج للوضوء والاغتسال فرضاً کان أو نفلاً۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ ۳؍۴۴۶) فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم