Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
مسائل صدقہ فطر

سوال:صدقہ فطر کی مقدار موجودہ اوزان کے حساب سے کتنی ہے؟ صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کی مقدار کیا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
جواب: صدقہٴ فطر کی مقدار گیہوں سے نصف صاع اور جو کشمش سے پورے ایک صاع ہے موجودہ اوزان کے اعتبار سے نصف صاع ایک کلو چھ سو تینتیس گرام (1.633) ہوتا ہے اور مکمل ایک صاع برابر تین کلو دو سو چھیاسٹھ گرام (3.266) ہوتا ہے۔
صدقہٴ فطر گیہوں، گیہوں کے آٹے، سَتّو وغیرہ سے نصف صاع (ایک کلو چھ سو تینتیس گرام 1.633) ادا کیا جائے گا۔ کھجور، کشمش، جو وغیرہ سے پورا ایک صاع (تین کلو دو سو چھیاسٹھ گرام 3.266) ادا کیا جائے گا۔ ان منصوص (متعین) چیزوں کے علاوہ اگر صدقہٴ فطر میں کوئی اور چیز دی جائے تو پھر منصوص (متعین) چیز مثلاً گیہوں وغیرہ کی قیمت کا اعتبار کریں گے، یعنی نصف صاع گیہوں کی قیمت کے برابر وہ چیز ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: صدقہ فطر روزہ دار کی بے کار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
صدقہ فطر کی تعریف
اتنا مالدار مسلمان جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ یا زکوۃ تو واجب نہیں ہوتی لیکن رہائشی مکان اور ضروری اسباب و آلات و اوزار کے علاوہ اتنی قیمت کا زائد مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر یہ زکوۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر عید الفطر کے دن صدقہ واجب ہوتا ہے چاہے اس مال پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اور تجارت کا مال ہو یا تجارت کا نہ ہو، اس کو صدقہ فطر کہتے ہیں۔ (ایضاح المسائل، ص: 96)
صدقہ فطر کس کی طرف سے ادا کیا جائے؟
صدقہ فطر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔ اپنی بیوی اور بالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں ہے۔ اور ان کا صدقہ فطر ان کے مال پر لازم ہوتا ہے لیکن اگر ان کی طرف سے ادا کردیا جائے تو جائز اور درست ہے۔ (ایضاح المسائل، ص: 96)
رمضان سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا؟
رمضان سے قبل (پہلے) صدقہ فطر ادا کرنا جائز ہے۔ لیکن خلاف احتیاط ہے اور رمضان میں ادا کرنا جائز اور د رست ہے عید الفطر کی صبح کو ادا کرنا زیادہ افضل اور مستحب ہے۔ (ایضاح المسائل، ص: 98)
قیمت دینے میں بازار بھاؤ کا اعتبار
اگر قیمت اداء کرنا چاہے، تو بازار بھاؤ کا اعتبار ہوگا اگر اس قیمت سے فقیر گیہوں خریدنا چاہے تو بآسانی بازار سے خرید سکے لہٰذا کنٹرول بھاؤ کا اعتبار نہ ہوگا۔(ایضاح المسائل، ص: 100)