Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
نصاب زكوة

سوال: زکوۃ کس کس چیز پر فرض ہے؟
جواب: زکوۃ مندرجہ ذیل چیزوں پر فرض ہے
سونا: جبکہ ساڑھے سات تولہ (87.479گرام) یا اس سے زیادہ ہو۔
چاندی جبکہ ساڑھے باون تولہ (612.35گرام) یا اس سے زیادہ ہو۔
روپیہ پیسہ اور مال تجارت، جبکہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی (612.35گرام) کے برابر ہو۔
نوٹ: اگر کسی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے، کچھ چاندی ہے، کچھ نقد روپے ہیں، کچھ مال تجارت ہے، اوران کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ (612.35گرام) چاندی کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوۃ فرض ہے۔ اسی طرح اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے۔ یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مال تجارت ہے۔ تب بھی ان کو ملا کر دیکھا جائے گا کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت بنتی ہے یا نہیں؟ اگر بنتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ نہیں۔ الغرض سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت میں سے دو چیزوں کی مالیت جب چاندی کے نصاب کے برابر ہو تو اس پر زکوۃ فرض ہے۔
ان چیزوں کے علاوہ چر نے والے مویشیوں (جانوروں) پر بھی زکوۃ فرض ہے اور بھیڑ بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کے الگ الگ نصاب ہیں، ان میں چونکہ تفصیل زیادہ ہے، اس لئے نہیں لکھتا، جولوگ ایسے مویشی رکھتے ہوں وہ اہل علم سے دریافت کر یں۔
عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوۃ فرض ہے، جس کو عشر کہا جا تا ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد: 5/79)