Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
جادو كا اثر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا؟ اگر ہاں ہے تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ اور کیا آج بھی کوئی جادوگر ہے؟ جو ہم میں سے کسی پر جادو کرسکتا ہے؟ برائے مہربانی جواب سے نوازیں
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب وباللّٰہ التوفیق:۔
صحیح روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی شخص ”لبید بن الاعصم“ نے جادو کیا تھا، جس کی بنا پر ایک خاص ذاتی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشانی لاحق ہوئی تھی۔ اس جادو کے دفعیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی دو سورتیں (سورہ فلق اور سورہ ناس) نازل فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی دور ہوئی۔ لہذا جادو سے متاثر ہونا شان رسالت کے خلاف نہیں ہے یہ بھی ایک محض بیماری ہے جس سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے۔ آج بھی ایسا ممکن ہے۔ (مستفاد: بخاری شریف ۱/۲۶۴ وغیرہ تفسیر ابن کثیر ۶/۹۸۵ زکریا)
وجاء فی روایۃ: اَلسِّحْرُ حَقٌّ۔ ویدل علیہ قولہ تعالیٰ: وَمَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ۔ (فقہ اکبر ۸۴۲) واللہ تعالیٰ اعلم