Welcome to MuftiArbab.com - A Spiritual Page!
رکعت میں سہو

سوال: ہم نے چار رکعت کی نیت باندھی لیکن تیسری رکعت میں ہمیں سہو ہوگیا کہ پتہ نہیں کہ تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت ہے تو کیا سجدہ سہو کریں یا دوبارہ سے نماز کا اعادہ کریں گے؟
اسی طرح اگر چار رکعت کی نیت باندھی پھر چوتھی رکعت میں سہو ہوگیا کہ پتہ نہیں کہ چوتھی ہے یا پانچویں ہے تو اب کیا سجدہ سہو کرنے سے نماز صحيح ہوجائے گی یا دوبارہ نماز کا اعادہ کریں گے؟ جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق:۔ اگر بار بار بھولنے کی شکل پیش آتی ہے تو غالب ظن اور یقین پر عمل کرتے ہوئے کم سے کم رکعت پر بنا کرلینی چاہئے اور اخیر میں سجدہ سہو کرلینا چاہئے اور جب سجدہ سہو کرلیا تو اب نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں چاہے نماز فرض ہو یا سنت۔ اس معاملے میں اور فرض میں کوئی فرق نہیں ہے البتہ اگر کسی شخص کو پہلی مرتبہ یا کبھی کبھار ایسا شک ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیت توڑ کر از سر نو نماز پڑھے تاکہ کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ (کتاب النوازل 3/618)
اگر مذکورہ شخص کو نماز میں شک پیدا ہونے کی عادت نہیں ہے پھر اتفاقی طور پر شک پیدا ہوگیا کہ تین رکعت پڑھی یا چار رکعت تو اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی اور اگر شک پیدا ہونے کی عادت ہے یعنی اکثر بیشتر اسے نماز میں شک ہوتا رہتا ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی؛ بلکہ جتنی رکعت پر ظن غالب ہو اسی کا اعتبار کرتے ہوئے نماز پوری کرے گا۔ (کتاب النوازل 3/616)